ملائیشیا کا ایک اور مسافر طیارہ لاپتہ

موجودہ دور جس میں تمام تر ٹیکنالوجی کی سہولیات موجود ہیں ، فضائی حادثات سے متعلق یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔


Editorial December 29, 2014
واضح رہے کہ اسی سال 8 مارچ کو بھی ملائیشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ بوئنگ 777 لاپتہ ہوا تھا جس کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔ فوٹو : فائل

رواں سال کے آخری ایام میں ملائیشیا کی ایئرلائن کا ایک اور مسافر بردار طیارہ 162 افراد سمیت لاپتہ ہوگیا، جس کی تلاس کا کام شدت سے جاری ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ایئرایشیا کی پروازکیو زیڈ 8501 نے انڈونیشیا کے شہر سورابیا سے سنگاپور جانے کے لیے اڑان بھری لیکن 42 منٹ بعد رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوگیا ۔

انڈونیشی حکام کا کہنا ہے کہ پرواز کا رابطہ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے کلیمان تان اور جاوا جزیرے کے درمیان کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوا، طیارے میں 16 بچوں سمیت 156 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار ہیں، جن میں سے 149 افراد کا تعلق انڈونیشیا، 3 کا کوریا، ایک برطانیہ اور ایک کا تعلق سنگاپور سے ہے ۔ واقعے کے فوری بعد انڈونیشیا کے حکام نے ملائشیا کے تعاون سے جزیرہ جاوا کے اطراف تلاش کا کام شروع کردیا تاہم موسم کی خرابی سرچ آپریشن میں خلل کا باعث ہے ۔ انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے سینئر افسر کے مطابق مسافر طیارہ معمول کے روٹ سے ہٹ کر پرواز کررہا تھا اور اسے ایک بادل سے بچنے کے لیے زیادہ بلندی پر پرواز کی ہدایت کی گئی تھی ۔ دوسری جانب روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ طیارے کا ملبہ بیلٹنگ جزیرے سے مل گیا ہے تاہم انڈونیشی یا ملائیشین حکام نے تصدیق نہیں کی ۔

وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں ، اس حوالے سے صدر بارک اوباما کو بریفنگ بھی دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ اسی سال 8 مارچ کو بھی ملائیشیا کا ایک مسافر بردار طیارہ بوئنگ 777 لاپتہ ہوا تھا جس کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ موجودہ دور جس میں تمام تر ٹیکنالوجی کی سہولیات موجود ہیں ، فضائی حادثات سے متعلق یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ، ایک ہی سال میں ملائیشیا کے دو طیاروں کا یوں غائب ہوجانا لوگوں میں قیاس آرائیوں کا باعث بن رہا ہے اور برمودا ٹرائی اینگل جیسے محیر العقل محرک سے ہٹ کر یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں کہ گزشتہ لاپتہ طیارے کی تباہی میں کچھ عالمی طاقتوں کا ہی ہاتھ تھا جیسا کہ گزشتہ دنوں سوشل نیٹ ورکس پر یہ افواہیں گردش کرتی رہیں ۔

لوگوں کے ابہام اور تشویش کو دور کرنے کے لیے تحقیقاتی اداروں کو گمشدہ طیاروں سے متعلق واضح رپورٹ تیار کر کے منظر عام پر لانا چاہیے، نیز فضائی کمپنیوں کو بھی نئے سرے سے اپنے ٹریکنگ سسٹم کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ آیندہ ایسے کسی بھی حادثے میں گمشدہ طیاروں کی تلاش کا کام سیٹلائٹ کے ذریعے باآسانی انجام دیا جاسکے ۔