سیمی فائنل میں پہنچانےکا کریڈٹ بولرز کو جاتا ہے سابق کرکٹرز

پہلے ہی پاکستانی ٹیم کو فیورٹ قرار دے دیا تھا (وسیم اکرم)آسٹریلیا کے خلاف کھلاڑیوں نے غلطیاں کم کیں، ظہیر عباس۔


Sports Reporter October 03, 2012
پہلے ہی پاکستانی ٹیم کو فیورٹ قرار دے دیا تھا (وسیم اکرم)آسٹریلیا کے خلاف کھلاڑیوں نے غلطیاں کم کیں، ظہیر عباس۔ فوٹو : فائل

لاہور: سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے پاکستانی ٹیم کی ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی کا کریڈٹ بولرزکو دیا ہے۔

جنھوں نے آسٹریلیا کے خلاف کامیابی میںبھی اہم کردار ادا کیا۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ میں نے پہلے ہی پاکستان کو ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم قرار دیا تھااور اس نے آسٹریلیا کے خلاف عمدہ کارکردگی سے میری بات درست ثابت کردی،انھوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز نے اچھی بولنگ کی اور سیمی فائنل میں رسائی کا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے۔ سابق کپتان ظہیرعباس نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف کھلاڑیوں نے غلطیاں کم کیں اور کم ہدف دینے کے باوجود بولرز نے کینگروز کے لیے اس کا حصول ناممکن بنادیا۔

سابق چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے کہا کہ گرین شرٹس نے تینوں شعبوں میں عمدہ پرفارم کر کے کینگروز کے خلاف کامیابی حاصل کی،انھوں نے کہا کہ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے باوجود ناصر جمشید اور کامران اکمل نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور ٹیم کے مجموعی اسکور میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ بعد ازاں اسپنرز رضا حسن، سعید اجمل اور محمد حفیظ نے بھی عمدہ بولنگ کی، انھوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آسٹریلوی ٹیم میں واٹسن اور ہسی کے سواکوئی اور بڑا کھلاڑی نہیں ہے۔

جبکہ پاکستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے، میچ میں یہ بات درست ثابت ہو گئی، سابق چیف سلیکٹر نے مزیدکہا کہ یاسر عرفات کی جگہ عبدالرزاق کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنانا ٹیم مینجمنٹ کا بہترین فیصلہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ بلاشبہ شاہد آفریدی میچ وننگ کھلاڑی ہیں تاہم انھیں اپنا کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کیلیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔

سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے کہا کہ پاکستانی ٹیم نے شیروں کی طرح مقابلہ کر کے میچ میں کامیابی حاصل کی،بھارت سے شکست کے بعد جب توپوں کا رخ گرین شرٹس کی جانب ہوا اس وقت بھی میرا موقف تھا کہ ٹیم آسٹریلیاکو ہرانے کی صلاحیت رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ واٹسن اور وارنر کے آئوٹ ہونے کے بعد پاکستانی اسپنرز پر پریشر کم ہو گیا۔ سابق ٹیسٹ بیٹسمین باسط علی نے کہا کہ کامران اور ناصر کیساتھ عبدالرزاق کو بھی فتح کا کریڈٹ دینا چاہیے،اس نے اچھی بیٹنگ کی۔