ٹرانسپیرنسی کے الزامات من گھڑت ہیں کے ای ایس سی

مقصد کراچی اور پاکستان کی مخالفت سے زیادہ کچھ نہیں، ہر سطح پر جواب دیا جائیگا، ترجمان


Staff Reporter October 03, 2012
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلیے کام کیا جارہاہے جسکا مستقبل قریب میں حقیقی امکان ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر (TIP) کی جانب سے کے ای ایس سی پر لگائے جانے والے من گھڑت اور ہتک آمیز الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

کے ای ایس سی نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کے ای ایس سی کو بغیر کسی مناسب تجزیاتی تحقیق کے بے بنیاد الزمات کا ہدف بنایا ہے۔ طویل عرصے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا جانبدارانہ ایجنڈا اور اس کے معاونین اور حامیوں کے ذاتی مفادات بے نقاب ہوچکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ کارپوریشن نے بہت سے مواقع پر ان بے بنیاد اور مبالغہ آمیز الزامات کا جواب دیا ہے اور شفاف حقائق کے حصول کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے آج تک کے ای ایس سی سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا اور اپنے نام کے برعکس حقائق کو شفاف بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔کے ای ایس سی نے مزید کہا کہ بطور ایک نجی کمپنی، کے ای ایس سی آزاد بیرونی آڈیٹرز کی ہدایات کے ما تحت ہے اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حکومت پاکستان اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی بھی مناسب نمائندگی ہے۔

گزشتہ 4 برسوں کے دوران کے ای ایس سی کی ایکوئٹی/ مالیات (Debt) میں مختلف مقامی و بین الاقوامی مالیاتی اداروں بشمول آئی ایف سی ( ورلڈ بینک گروپ کا رکن) اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے ایک ارب امریکی ڈالر آئے لہٰذا کے ای ایس سی پر کسی قسم کا من گھڑت الزام عائد کرنا دراصل دیگر دوسرے آزاد اداروں پر بھی اعتراض کرنا ہے۔ کے ای ایس سی کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان اپنے اس عزم کا مظاہرہ کررہی ہے کہ وہ پاکستان کے توانائی کے اُس شعبے میں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے خوفزدہ ہے جس کو مستقبل کے لیے خصوصاً متبادل ٹیکنالوجی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے میدان میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

یہ حقیقیت انتہائی واضح ہے کہ کراچی کے 20 ملین صارفین کے بہترین مفاد میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کے ای ایس سی کی مجموعی کارکردگی قابل تحسین حد تک بہتر ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی یہ افسوسناک حکمت عملی نہ صرف یہ کہ نقصان دہ ہے بلکہ کرچی مخالف اور پاکستان مخالف سے زیادہ کچھ نہیں۔ کے ای ایس سی کراچی سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہفتے کے ساتوں دن 24گھنٹے انتھک محنت کررہی ہے جس کا انشأاللہ مستقبل قریب میں حقیقی امکان ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اگر پاکستان میں کام کرنے والی دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی لوڈ شیڈنگ کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو کے ای ایس سی کا لوڈ شیڈنگ کا ریکارڈ سب سے کم ہے۔کے ای ایس سی نے اپنی اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ کچھ نہیں چھپارہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے الزامات کا وہ کسی بھی سطح اور مناسب فورم پر مقابلہ کرسکتی ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے تمام الزامات کا جواب دے گی۔