مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج

1950 ء تا 1989ء بھارت دنیا کو یہی گمراہ کن تاثر دیتا رہا کہ کشمیری عوام انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔


Editorial January 10, 2015
گذشتہ 37 برسوں میں یہ چھٹا موقع ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ریاست کے گورنر نے انتظامی کمان سنبھال لی ہے۔ فوٹو : فائل

مقبوضہ کشمیر کے ریاستی انتخابات میں کسی پارٹی کے واضح برتری نہ لینے کے باعث گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔ گورنر راج نافذ کرنے کے لیے سمری صدر پرناب مکھرجی کو بھجوائی گئی تھی۔ صدر کے دستخط کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آئین کی شق 92(5) کے تحت گورنر راج نافذ ہوگیا۔ واضح رہے گذشتہ 37 برسوں میں یہ چھٹا موقع ہے کہ جب مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ریاست کے گورنر نے انتظامی کمان سنبھال لی ہے۔

کشمیر ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 87 رکنی ریاستی اسمبلی میں کوئی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ سوال یہ ہے کہ بھارتی حکمران کب تک تاریخ اور کشمیری عوام سے انتخابی کھیل کھیلتے اور سیکولر انڈیا کے نعرہ کی آڑ میں وادی کے عوام کی امنگوں اور خواہشات کا گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے جب کہ بھارت کے ممتاز تجزیہ نگار اور مبصرین بھی کہہ رہے ہیں کہ 1950 ء تا 1989ء بھارت دنیا کو یہی گمراہ کن تاثر دیتا رہا کہ کشمیری عوام انتخابات میں ووٹ ڈالتے رہے ہیں، آج بھی مودی اپنی انتخابی تقاریر میں اہل کشمیر کا ووٹنگ میں حصہ لینے پر شکریہ ادا کررہے ہیں، یہ دوغلی پالیسی آخر کب تک چلے گی۔ بخشی غلام محمد نے بھی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی حیثیت میں 1957 ء سے1972 ء تک انتخابات میں دھاندلی سے کام چلایا، ماضی کے یہ سارے انتخابات بھارتی دانشوروں ، سیاستدانوںاور عالمی ضمیر کی نگاہوں میں غیر جمہوری اور حق رائے دہی کے بنیادی اصولوں کے خلاف تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے منعقدہ ریاستی انتخابات میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی نے 25 ، محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے28 کانگریس نے 15 اور نیشنل کانفرنس نے 12 نشستیں جیتی تھیں تاہم مقررہ وقت میں اتحاد بنانے میں ناکام رہے تھے جس کے بعد بھارت کی وفاقی حکومت نے متنازعہ وادی کشمیر میں براہ راست کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے مطابق نیشنل کانفرنس پارٹی کی شکست کے بعد انھوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

اب گورنر این این وْہرا وفاقی حکومت کی جانب سے اس وقت تک ریاست کے معاملات چلائیں گے جب تک وہاں کوئی اتحادی حکومت تشکیل نہیں پا جاتی۔ گذشتہ 37 سال میں یہ چھٹا موقع ہے جب ریاست کے گورنر نے انتظامیہ کی کمان سنبھالی ہے۔ گورنر راج کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہوتی ہے۔ اس دوران اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد سامنے آیا تو حکومت قائم ہو گی ورنہ چھہ ماہ بعد ازسرنو انتخابات کا اعلان ہوگا۔ وقت آگیا ہے کہ کشمیری عوام اور خطے کے حقائق کو بھارتی حکمراں تسلیم کرنے میں پس و پیش نہ کریں، ممتاز بھارتی دانشور شنکر جھا کے مطابق جموں و کشمیر کے حالیہ الیکشن نے کشمیری عوام کے بھارت کے دیگرعلاقوں سے تعلقات کو زک پہنچائی ہے لہٰذا مودی سرکار کو جمہوریت اور سیکولرازم کی روح کے مطابق فیصلے کرنا چاہییں، دکھاوے کے الیکشن اور جبروستم سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔