بلدیہ اور پولیس کی ملی بھگت سے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف دوبارہ تجاوزات قائم

بلدیہ عظمیٰ اور پولیس نے صدر ایمپریس مارکیٹ سے کچھ دیر کے لیے پتھارے ہٹاکردوبارہ پتھارے لگانے کی اجازت دیدی۔


Staff Reporter January 21, 2015
صدر، ایمپریس مارکیٹ اور ریگل چوک کے اطراف تاحال پتھارے اور دیگر تجاوزات قائم ہیں جس کے باعث منگل کو مذکورہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام رہا۔ فوٹو: ایکسپریس

بلدیہ عظمیٰ اور پولیس نے عدالت کو بھی بے وقوف بنادیا، صدر ایمپریس مارکیٹ سے کچھ دیر کے لیے پتھارے ہٹاکر فلم اورتصاویر بنانے کے بعد دوبارہ پتھارے لگانے کی اجازت دیدی اورفلم وتصاویر عدالت میں دکھاکر بتایا کہ تمام تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ اور پولیس نے عدالت کو بھی بے وقوف بنادیا،چندروزقبل عدالت عظمیٰ نے بلدیہ عظمیٰ اورپولیس کو ہدایت جاری کی تھیں کہ تجاوزات ختم کرکے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے جس پر مذکورہ محکموں نے صدر، ایمپریس مارکیٹ، لائٹ ہاؤس، جامع کلاتھ سمیت دیگر علاقوں سے کچھ دیر کے لیے پتھارے ہٹوانے کے بعد میڈیا کے ذریعے فلم اور تصاویر بنواکر شائع کیں اور اس کے اگلے روز عدالت کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عدالت نے جن علاقوں سے تجاوزات کے خاتمے کا حکم دیا تھا وہاں سے تمام تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

شہریوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ صدر، ایمپریس مارکیٹ اور ریگل چوک کے اطراف تاحال پتھارے اور دیگر تجاوزات قائم ہیں جس کے باعث منگل کو مذکورہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام رہا، ٹریفک جام کے باعث شہریوں، ٹریفک پولیس اور پتھارے والوں میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی، ٹریفک جام کے باعث ریگل، شاہراہ لیاقت، لائنز ایریا کی گلیوں اور اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں، گاڑیوں کی قطاریں لگنے کے بعد ٹریفک پولیس غائب ہوگئی۔

فٹ پاتھ پر تجاوزات اور سڑکوں پر ٹریفک جام کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے راستہ بند ہو گیاجس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا، دکانوں کے مالکان نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ تجاوزات کے قیام میں پولیس اوربلدیہ عظمیٰ کااہم کردارہے،تجاوزات کے خاتمے کے لیے بلدیہ عظمیٰ کے سربراہ کو خود ایماندار ہونا چاہیے، اسے نہ خود جائیدادیں بنانے کی فکرہو اور نہ ہی مبینہ طور پر حکومتی لوگوں کا کمیشن دینے کی فکرہو اسی صورت میں ہی تجاوزات کاخاتمہ مکمن ہوسکے گا بصوررت دیگر تجاوزات کاخاتمہ کرنا ناممکن ہے۔

پولیس کاسربراہ بھی دیانتدارہوناچاہیے جوتجاوزات کے خلاف آپریشن کوفرض شناسی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچائے، پولیس اوربلدیہ عظمیٰ کے کرپٹ افسران کے خلاف سخت کاررروائی کی جائے، پتھارے والوں کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں وہ زبردستی کاروبار نہیں کرتے بلکہ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ کی تمام جگہ نہ صرف خریدی ہوئی ہیں بلکہ ہر ہفتے علاقہ پولیس اوربلدیہ عظمیٰ کے نمائندوں کو رقم دیتے ہیں۔

ایک ماہ قبل جب اینٹی انکروچمنٹ کا عملہ بلدیہ عظمیٰ کے ساتھ تجاوزات کے خاتمے کے لیے آیا تھا تو بلدیہ عظمیٰ کے ایک افسر نے ان سے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے لے کر اینٹی انکروچمنٹ کے ایک افسر کو دیے تھے جس پر اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نے منصوبہ بندی کے تحت پتھارے ہٹانے کے لیے لاٹھی چارج اورہوائی فائرنگ کی جب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے کوریج کرلی تو وہ وہاں سے یہ بول کر چلے گئے کہ ہمارے جانے کے ایک گھنٹے بعد دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر دینا۔