جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اور امریکی ترجیحات

بھارت جس کا عمل دخل افغانستان میں پہلے ہی موجود ہے اب اس میں امریکی چھتری تلے مزید اضافہ ہو گا۔


Editorial January 27, 2015
امریکا کے بھارت سے ہونے والے دفاعی تجارتی معاہدوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے، فوٹو: اے ایف پی

امریکا اور بھارت کے درمیان باہمی تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سول نیو کلیئر تجارت شروع کرنے کا سمجھوتہ طے پایا ہے۔ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان گزشتہ روز ون آن ون ملاقات کے بعد سات بڑے اعلانات کیے گئے۔ ان میں سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی معاہدے میں پیش رفت' مزید دفاعی تعاون' انسداد دہشت گردی کے لیے مزید اقدامات' مزید تجارتی معاہدے کرنا' کلین انرجی پر مذاکرات جاری رکھنے' سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور امریکا اور بھارتی قومی سلامتی کے مشیروں میں مزید ہاٹ لائنز کا قیام شامل ہے۔

امریکا نے بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت بھی کر دی ، اس کے علاوہ امریکا بھارتی جوہری مواد سے ٹریکنگ ڈیوائس ہٹانے پر تیار ہو گیا ہے' ٹریکنگ ڈیوائس نہ لگانے کا فیصلہ صدر اوباما نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا' اس طرح امریکا بھارت کو فراہم کیے جانے والے ایٹمی ایندھن کی نقل و حمل کی تفصیل سے لاعلم رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اور امریکا دفاعی تعاون کے تحت مل کر ڈرون طیارے بنائیں گے اور C-130 فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کے آلات بھی تیار کیے جائیں گے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ کے مطابق بھارت اور امریکا نے دفاعی شعبے میں اگلے دس سال کے لیے معاہدے کر لیے ہیں۔

امریکا اور بھارت کے درمیان اربوں ڈالر کے نیو کلیئر اور دفاعی تجارتی معاہدوں سے جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسیوں کی ترجیحات کا واضح تعین ہو جاتا ہے کہ امریکا اس خطے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے بھارت کو اپنا پارٹنر بنا رہا ہے اور وہ اس کے ذریعے اس خطے پر اپنا کنٹرول مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ جس کا واضح اظہار صدر اوباما کی اس بات سے ہوتا ہے کہ '' افغانستان میں امریکا کا جنگی مشن ختم ہو چکا اس لیے افغانستان میں اب مستقل امن کے لیے قابل اعتماد پارٹنر چاہتے ہیں'' اس کا واضح مطلب ہے کہ بھارت جس کا عمل دخل افغانستان میں پہلے ہی موجود ہے اب اس میں امریکی چھتری تلے مزید اضافہ ہو گا۔

امریکا خود تو افغانستان سے چلا گیا ہے لیکن وہ اس خطے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اس کے لیے اسے کسی قابل اعتماد دوست کی ضرورت تھی جس کے لیے اس نے بھارت کا انتخاب کیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے بھی پریشان کن ہے اور پاکستانی پالیسی سازوں کی ان معاملات پر گہری نظر ہے۔ امریکا بھارت کو جدید ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں سے لیس کر کے ایک بڑی قوت بنانا چاہتا ہے۔ اس نے ایٹمی مواد سے ٹریکنگ ڈیوائس ہٹانے کا فیصلہ کر کے بھارت کو اس شعبے میں کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ امریکا ایک جانب ایران پر ایٹمی معاملات کے حوالے سے دباؤ ڈال رہا ہے یہاں تک کہ اس نے اس پر حملے کی دھمکی بھی دے ڈالی تھی لیکن دوسری جانب وہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کے بجائے اس کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت پر اتنی زیادہ نوازشات کرنے کے پس منظر میں جو عوامل کارفرما ہیں اس کے تحت امریکا چین کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان پر بھی اپنا دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ امریکا چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی سے خوفزدہ ہے اور اسے خطرہ ہے کہ آیندہ چند دہائیوں میں ہونے والے عالمی سطح کے فیصلوں کی ڈور کہیں چین کے ہاتھ نہ چلی جائے۔ اس لیے وہ تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے پالیسی ساز صدر اوباما کے دورہ بھارت کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ صدر اوباما نے نہ کشمیر اور نہ سرحدوں پر ہونے والی کشیدگی ہی کے حوالے سے بھارت سے کوئی بات کی اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ بھارت دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اب امریکی تعلقات مزید مضبوط ہونے کے بعد اس کے جارحانہ رویے میں تیزی آ سکتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے چین کے دورہ کا موقع پر اپنے چینی ہم منصب کی ژیانگ کو سے ملاقات کے دوران خطے کی سیکیورٹی،طویل المدتی دفاعی تعاون بڑھانے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، دونوں ممالک کی عسکری قیادت نے انسداد دہشت گردی' انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ٹریننگ کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکا کے بھارت سے ہونے والے دفاعی تجارتی معاہدوں کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنا دفاع مضبوط بنانے کے لیے چین کے علاوہ روس اور دیگر طاقتور ممالک سے بھی رابطہ کرنا ہو گا کیونکہ اب امریکا بھارت کو ناراض کرکے پاکستان سے بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے نہیں کرے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو رائیونڈ میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ مغرب بالخصوص امریکا کو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ لیکن کیا امریکا ایسا کرنے پر راضی ہوجائے گا۔ بارک اوباما کے دورے کے تناظر میں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکا کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔