صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں تیز

اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے بلدیاتی نظام کا مطالبہ ہر جمہوری دور میں عوام کی خواہش رہا ہے۔


Editorial January 27, 2015
تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کے دور رس فوائد کے لیے ذاتی سیاست سے گریز کرنا چاہیے، فوٹو : فائل

KARACHI: اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے بلدیاتی نظام کا مطالبہ ہر جمہوری دور میں عوام کی خواہش رہا ہے لیکن ہر جمہوری حکومت ہی اس نظام کے نفاذ سے پہلوتہی برتتی رہی لیکن اس بار ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی ملک کے باقی تینوں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔ بلوچستان اپنے انتخابات کراچکا، اطلاعات ہیں کہ ملک کے صوبہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کے لیے تمام ابتدائی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں جب کہ سندھ اور پنجاب میں کام تیز کردیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا شیڈول اپریل میں جاری کردیا جائے گا، غیر حتمی شیڈول کے مطابق پولنگ مئی کے آخری ہفتے میں ہوگی۔ اگر سندھ اور پنجاب کے معاملے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تو شیڈول مئی میں جاری کردیا جائے گا اور پولنگ جون کے آخری ہفتے میں ہوگی۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے یہ اطلاعات خوش کن ہیں۔ اخباری اطلاع کے مطابق خیبرپختونخوا کے امیدواروں کے لیے 12 لاکھ کاغذات نامزدگی چھاپ دیے گئے ہیں جب کہ کاغذات نامزدگیوں سے متعلق دیگر دستاویزات کی چھپائی کا کام بھی مکمل ہوگیا ہے۔

حکومت سندھ نے بلدیاتی الیکشن کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری محکمہ بلدیات کو اپنا فوکل پرسن مقرر کردیا ہے اور ضلع میں ڈپٹی کمشنر کو یہ ذمے داری دے دی ہے، پنجاب حکومت نے صوبے کے لیے یہ ذمے داری ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ بلدیات اور ضلع میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل باڈیز کو دی ہے۔دونوں صوبوں کے فوکل پرسنزنے حلقہ بندیوں کے لیے مطلوبہ اعداد و شمار الیکشن کو فراہم کردیے ہیں اور اگر مزید کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی تو حلقہ بندیوں کا عمل 2 مہینے میں مکمل ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ حلقہ بندیوں کے تناظر میں اٹھنے والا کوئی کھٹراگ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں خلل نہ ڈال سکے۔

تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کے دور رس فوائد کے لیے ذاتی سیاست سے گریز کرنا چاہیے تاکہ نہ صرف بلدیاتی انتخابات احسن طریقے سے مکمل ہوں بلکہ عوام کا بلدیاتی نظام کے نفاذ سے متعلق دیرینہ مطالبہ بھی پورا ہوسکے۔