یمن میں امریکی کارروائی کا عندیہ

یمن کو بحران کا حقیقی سامنا ہے اور اسے القاعدہ کے مسلسل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے شدید مسائل درپیش ہیں۔


Editorial January 27, 2015
یمن کے صدر عبدالرب امریکا کے اہم حلیف ہیں،غالباً اسی تناظر میں مبصرین یمن میں مزید امریکی فوجی کارروائی کے امکانات جائزہ لے رہے ہیں، فوٹو : فائل

یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے امریکا کی توجہ حاصل کرلی ہے اور صدر بارک اوباما نے بحران کے باوجود مداخلت اور القاعدہ کا تعاقب کرنے کا عندیہ دیا ہے، مغربی میڈیا نے یمن کو مشرق وسطیٰ کا نیا فلیش پوائنٹ بتایا ہے۔

صورتحال کی سنگینی اور نزاکت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ باغیوں کی طرف سے صدارتی محل پر حملے اور اس کے بعد متعدد عہدیداروں اور وزراء کے گھروں کا محاصرہ کرنے کے بعد عملاً حکومت محصور ہی ہوگئی ، بعد ازاں یمنی صدر عبدا لرب منصور ہادی اور وزیراعظم خالد بحاح دونوں نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم پارلیمنٹ نے صدر کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا جب کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حکومت کو ایسے غیر تعمیری سیاسی گورکھ دھندے کا حصہ نہیں بنانا چاہتے۔ یمن کو بحران کا حقیقی سامنا ہے اور اسے القاعدہ کے مسلسل حملوں کا دفاع کرتے ہوئے شدید مسائل درپیش ہیں ۔

یمن کے عوام دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ امریکا کی اس بحران میں براہ راست مداخلت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے، صدر اور وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے بعد عبوری طور پر حکومتی ایوان تقریباً خالی ہوگیا ہے،اور ایسے میں اندیشہ ہے کہ کہ کہیں سیاسی افراتفری ملک کے لیے مزید نقصان کا باعث نہ بن جائے۔ واضح رہے صدر کے مشیر سلطان الاوتانی نے پہلے ہی پارلیمنٹ میں موجودگی کے لیے اراکین کے اکھٹا ہونے کو مشکل قرار دیا تھا، حوثی باغیوں نے رات پارلیمنٹ کی عمارت کا بھی محاصرہ کرلیا، جب کہ وہ صدارتی محل کے گرد بھی ڈیرا ڈالے بیٹھے ہیں، حوثی ملیشیا کے مسلح افراد وزیر دفاع محمود الصحیبی اور انٹیلی جنس کے سربراہ عل الاحمدی کی رہائش گاہوں کو خاص طور پر گھیرے میں لے چکے ہیں۔

یوں یمن انتشار اور انارکی کے گرداب میں پھنستا دکھائی دیتا ہے۔ میڈیا کے مطابق مختلف مسلح گروپوں میں کشیدگی کا خطرہ کئی اندیشوں کو جنم دے رہا ہے،اطلاعات کے مطابق ملکی سیاسی صورتحال کا کوئی حل نکالنے کے لیے اتوار کا ہونے والا یمنی پارلیمنٹ کا اجلاس بھی صدر کے مستعفی ہونے پر بحث نہ کرسکا جس کے بعد سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں آئینی و سیاسی خلا خطرناک ہوگیا ہے۔

یمن کے صدر عبدالرب امریکا کے اہم حلیف ہیں،غالباً اسی تناظر میں مبصرین یمن میں مزید امریکی فوجی کارروائی کے امکانات جائزہ لے رہے ہیں جب کہ صدر اوباما نے دہلی سے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ یمن دنیا کا خطرناک علاقہ ہے، اور ہم امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے القاعدہ کا تعاقب اور ان کے ہائی پروفائل ٹارگٹ پر ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ عالمی برادری کو یمن کے بحران پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔