خطے کے بدلتے ہوئے حالات

پاک فوج کے سربراہ کا یہ کہنا درست ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔


Editorial January 27, 2015
پاکستان کو اگر اس وقت کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ دہشت گردی سے ہے لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا جائے، فوٹو : فائل

امریکا کے صدر بارک اوباما بھارت کا دورہ مکمل کر کے سعودی عرب پہنچ گئے جب کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف عوامی جمہوریہ چین کا دورہ مکمل کر کے پاکستان واپس آ گئے، وہ وطن واپسی کے فوراً بعد مہمند ایجنسی گئے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ چین اور امریکی صدر اوباما کا دورہ بھارت جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے جیوا سٹرٹیجک تناظر میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور ان دوروں کے خطے کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس وقت افغانستان، القاعدہ اور طالبان کے معاملات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔افغانستان میں امریکا کا فوجی مشن بقول صدر اوباما مکمل ہو چکا ہے۔ افغان طالبان کی مزاحمت موجود ضرور ہے لیکن اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ افغانستان کی نئی حکومت اپنے پیش رو کے برعکس پاکستان کے ساتھ زیادہ تعاون کررہی ہے۔ ادھر پاکستان بھی شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔ پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں پناہ گزین ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ ادھر بھارت بھی افغانستان میں اپنے لیے جگہ تلاش کر رہا ہے۔

گو افغانستان میں بھارت خاصا اثرورنفوذ رکھتا ہے تاہم پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے اثرات خاصے کم ہیں۔ چین بھی اس خطے میں خاصے مفادات رکھتا ہے۔ پاکستان چین کے لیے بحرہند تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔ امریکا اور بھارت چین کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوش نہیں ہیں۔ ان سارے معاملات کو دیکھا جائے تو اس خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات کی تنظیم نو ہو رہی ہے۔ اس خطے کے ممالک کو بھی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے۔

امریکی صدر اوباما نے دورہ بھارت کے دوران بہت سے اشارے دیے ہیں، صدر اوباما کے بیانات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور امریکا چاہتا ہے کہ بھارت اس خطے میں کلیدی کردار ادا کرے۔ ادھر بھارت وزیراعظم نریندر مودی کے بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت بھی اس کردار کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکا بھارت کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بھی بنانا چاہتا ہے۔ صدر اوباما کے دورہ بھارت کے اختتام پر جو مشترکہ علامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان ہاٹ لائن قائم کی جائے گی ۔

جس سے وہ مستقل طور پر رابطے میں رہیں گے۔ دہشت گردی کے حوالے سے بھی وہ موقف اختیار کیا گیا ہے جو دراصل بھارت کی زبان ہے۔ یہ صورت حال یقیناً پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے بھی قابل توجہ ہے اور انھیں ان بدلتے ہوئے حالات میں اپنی پوزیشن کا بھی تعین کرنا ہے۔ ادھر عوامی جمہوریہ چین کی قیادت بھی بھارت میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ امریکا اور بھارت کی اسٹیبلشمنٹ کے عزائم کو بخوبی سمجھتی ہے۔ اب اس خطے میں نئے اتحاد بھی تشکیل پاتے نظر آئیں گے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور ہمہ گیر ہوں گے۔

چینی قیادت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کا جس والہانہ انداز میں استقبال کیا ہے وہ اس کا ثبوت ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ پی کا کہنا ہے کہ پاکستان چین کا ایسا دوست ہے جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا، پاکستان مشکل وقت اور ہر طرح کے حالات کا ساتھی ہے، دونوں ملکوں کی منزل ایک ہے۔ چیئرمین پیپلز کانفرنس یوزینگ شینگ نے کہا کہ پاکستان چین کا سب سے زیادہ پر اعتماد دوست ہے، پاکستان کے خدشات ہمارے خدشات ہیں، چینی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر سطح پر دوست ملک کی مدد کی جائے گی۔ ممبر پولٹ بیورو سینگ جیان زو نے کہا کہ چین کی پاکستان پر پالیسی ہمیشہ یکساں رہی ہے، پاکستان کی مشکل چین کی مشکل اور پاکستان کا مسئلہ چین کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ چین کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور وہ چین کا سب سے قابل اعتماد پارٹنر رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کو بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرنا چاہیے، ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اپنی توجہ پوری طرح سے دہشت گردی پر مرکوز کرے۔ باہمی تعاون سے ہی دہشت گردی کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

اس خطے کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی بن چکا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کا یہ کہنا درست ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔ لہٰذا دنیا کو بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کرنا چاہیے۔ اقوام عالم خصوصاً امریکا اور مغربی یورپ، انھیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر امریکا اور یورپ کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ بھارت اس معاملے میں رہنما کردار ادا کر سکتا ہے تو یہ ان کی غیر حقیقی سوچ ہے۔ افغانستان اور وسط ایشیا کے معاملات کو پاکستان سے زیادہ اس خطے کا کوئی ملک نہیں سمجھتا۔ لہٰذا امریکا اور یورپ کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھیں۔ اسی طرح اگر امریکا اور یورپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کے ذریعے چین کا گھیراؤ کیا جا سکتا ہے تو یہ بھی خام خیالی ہے۔

بھارت چین کو بحرالکاہل تک رسائی سے روک سکتا ہے اور نہ ہی بحرہند تک جانے سے۔ بحرہند کا دروازہ پاکستان ہے جب کہ بحرالکاہل چین کے سامنے کھلا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی پاکستان زیادہ اہمیت کا حامل ملک ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پالیسی ساز بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کررہے ہیں تاہم انھیں بھی بدلتے ہوئے حالات کا گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے ایشو پر پاکستان کو کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستان کو اگر اس وقت کسی چیز سے خطرہ ہے تو وہ دہشت گردی سے ہے لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا جائے۔