بھارت سے تناؤ ختم ہونے تک تجارت نہیں ہوسکتی خرم دستگیر

پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ ٹیکسیشن ایشوز، ٹریڈ انفرااسٹرکچرز، انرجی اور انتہا پسندی رکاوٹ ہیں، خرم دستگیر


Khususi Reporter/APP January 28, 2015
ہمارا فوکس افغانستان اور وسط ایشیا، ایران کے ساتھ ٹریڈ کرنا، ایسٹ ایشیا اور افریقی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا ہے، خرم دستگیر ۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے معاشی استحکام میں دہشت گردی، انتہا پسندی، ٹیکسیشن ایشوز اور ٹریڈ انفرااسٹرکچرکو رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پہلے 2 سال معاشی استحکام کے لیے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائی ہے، بھارت کے ساتھ تناؤ کی کیفیت ختم ہونے تک تجارت پر بات نہیں ہو سکتی، آئندہ ماہ این ایل جی کا پہلا ٹرمینل کام شروع کر دے گا۔

وہ منگل کی سہ پہر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اسد مشہدی، سینئر نائب صدر ہمایوں پرویز، سابق صدر شیخ شبیر اور دیگر عہدیداران اور ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ خرم دستگیر نے کہا کہ تمام مسائل پر دلجمعی سے کام کررہے ہیں، پاکستان کی معاشی ترقی میں رکاوٹ ٹیکسیشن ایشوز، ٹریڈ انفرااسٹرکچرز، انرجی اور انتہا پسندی رکاوٹ ہیں، ان معاملات کو حل کیے بغیر ہم آگے نہیں چل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلیے ایک ہوچکی ہیں،2015میں امن و امان کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، ایکشن پلان کے بعد مزید بہتری آئے گی، کراچی کی صورتحال بھی پہلے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انرجی سیکٹر میں کامیابیاں ملی ہیں، پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کی جانب گامزن ہیں، فروری میں پہلا این ایل ٹرمینل تیار ہوجائے گا، جون میں ایک اور تیار ہوجائے گا اس سے گیس کے بحران میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ کوئلے کو شمال میں منتقل کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں تھے، اب کول پاور پلانٹس کراچی پورٹ قاسم میں لگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تربیلا ڈیم کے 40 سال بعد دھاسو ڈیم کی تعمیر شروع کر رہے ہیں، اس سے بھی بجلی بحران پر کافی حد تک کمی آسکے گی جبکہ فرنس آئل والے پلانٹس کی منتقلی کی جارہی ہے تاکہ بحران سے قبل از وقت نمٹا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ دھرنا کسی سیکٹر کے لیے مثبت ثابت نہیں ہوا، صرف عوام کے مسائل بڑھے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کے تعاون سے کراچی میں 2 نیوکلیئر پاور پارجیکٹس پر کام جاری ہے، 2017 تک توانائی کے بحران پر کافی حد تک قابو پالیں گے۔

خرم دستگیر نے کہا کہ نواز شریف نے علاقائی تجارت پر فوکس کیا ہوا ہے، چین کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی کر رہے ہیں، پاکستان کے تجارتی مفاد کا دفاع ہماری ذمے داری ہے، چین کے ساتھ بات چیت کا مقصد جو کمی رہ گئی تھی اس کو پورا کرنا ہے، ایف ٹی اے ٹو کرنے جارہے ہیں، چین پاکستان کو مارکیٹ رسائی دے گا، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں تناؤ ہے، جب تک تناؤ ہے تجارت پر گفتگو نہیں ہو سکے گی، ہمارا فوکس افغانستان اور وسط ایشیا، ایران کے ساتھ ٹریڈ کرنا، ایسٹ ایشیا اور افریقی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا ہے، افغانستان نے 2 طرح کے چارجز ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی، پاکستان افغانستان تاجکستان ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے افغانستان نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جنوری میں پہلا راؤنڈ ہوا،آئندہ تین چار ماہ میں تینوں ممالک کا ٹریڈ ایگریمنٹ مکمل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان سے بھی ہماری بات چیت ہوئی ہے، افغانستان، تاجکستان اور وسط ایشیا پر سرمایہ کاری، مواصلات اور ٹریڈ کے شعبے پر فوکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون سے قبل ایکسپورٹ امپورٹ بینک کا قیام اورلینڈ پورٹ اتھارٹی کا بل پارلیمان میں آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی آرکی ممبر شپ کے لیے تمام وزارتوں کا موقف لے کر کابینہ کو بھجوا دیں ہیں، اس سے ایران، ترکی اور یورپ کے ساتھ ٹریڈ کے لیے سہولتیں مل سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایڈوائزری کونسل کے حوالے سے ایک سمری وزیراعظم کو بھجوائی ہے، بہت جلد منظوری ہوجائے گی، پٹرولیم بحران اور بجلی کے جو ایشوز آئے ہیں اس پر وزیراعظم نے سخت نوٹس لیا ہے، ٹریڈ پالیسی اور اقتصادی پالیسی کے لیے بین الاوزارتی تعاون کو پہلے سے زیادہ بڑھایا جا رہا ہے، واہگہ، طورخم، چمن اور تفتان کی ڈرائی پورٹس کو جدید خطوط پر استوار کریں گے جس سے ہمسایہ مما لک سے تجارت میں اضافہ ہو گا۔

مقبول خبریں