بھارت امریکا جوہری معاہدہ پاکستان کے تحفظات

صدر اوباما کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات اور معاہدات کی گونج ابھی باقی ہے


Editorial January 29, 2015
امریکا بھارت جوہری معاہدے کے علاقائی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

امریکا کے صدر اوباما اپنی بھارت یاترا سے واپس لوٹ چکے ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم سے ملاقات اور معاہدات کی گونج ابھی باقی ہے۔ خطے کے علاقائی استحکام کے حوالے سے پاکستان کو بھارت امریکا جوہری معاہدہ پر شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان نے بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حوالے سے امریکی حمایت کی بھرپور مخالفت کی ہے۔

پاکستان میں وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے بیان میں کہا ہے کہ امریکا بھارت جوہری معاہدے کے علاقائی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی صدر بارک اوباما کے دورہ بھارت پر بیانات اور اس دوران ہونے والے معاہدوں کا تعلق ایسے معاملات سے ہے جن کا عالمی اور علاقائی صورتحال پر اثر پڑے گا، پاکستان ان معاہدوں کے طویل مدتی نتائج کا اپنی سلامتی پر اثرات کے حوالے سے جائزہ لیتا رہے گا، تاہم فی الوقت اس پر کسی حد تک تبصرہ کرنا ضروری ہے۔

سرتاج عزیز کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کیونکہ بھارت کی ازلی ہٹ دھرمی اور پاکستان مخالفت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جب کہ بھارت میں اس وقت نریندر مودی جیسے شدت پسند رہنما کی حکومت قائم ہے جس کے دور اقتدار میں نہ صرف سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ امن مذاکرات بھی ڈیڈ لاک کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں، ایسے میں اگر بھارت کو امریکا کی شہہ ملتی رہی تو وہ مزید بے قابو ہوسکتا ہے۔ تین روزہ دورے کے اختتام پر امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی گفتگو میں بے شک بھارت کی طرفداری کی لیکن کچھ باتیں بھارتی انتہاپسندوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

اوباما نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ خطے میں جمہوریت کو مضبوط کرے، دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہوگا، انھوں نے مذہبی برداشت اور خواتین کے تحفظ اور عزت کی بات بھی کی۔ کسی نہ کسی سطح پر صدر اوباما کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ بھارت میں مذہبی انتہاپسندی خاص کر مسلمانوں کے ساتھ ناروا رویہ اور خواتین کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کس قدر تشویشناک ہے لیکن شاید امریکا خطے میں بھارتی اجارہ داری چاہتا ہے اسی لیے اوباما نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن جائے۔ امریکی صدر اس حقیقت کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ ایک ایسا ملک جس نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی ہمیشہ خلاف ورزی کی ہو، کسی بھی طرح سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا اہل نہیں ہوسکتا۔

''امریکی صدر کا دورہ بھارت اور خطے پر اس کے اثرات''کے حوالے سے دفاعی و عسکری ماہرین نے ''ایکسپریس فورم'' میں اظہار خیال کیا کہ امریکا بھارت سے دوستی کے ذریعے دراصل چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت سپر پاور ہے، چین دنیا کی بڑی پاور بن کر ابھر رہا ہے اور امریکا کی ساری توجہ اس طرف ہے، امریکا چین کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کررہا ہے، بھارت کے ساتھ دوستی چین کی طاقت کو روکنے کے لیے ہے، امریکا اس خطے میں بھارت کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے جب کہ یہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہ ہوگا۔

بھارت امریکا کے لیے اسلحہ کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور اب بھارت امریکا سے اسلحہ بھی خریدے گا۔ اس سب تناظر کے باوجود ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے اور ایشیا کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے لہٰذا امریکا اپنے تجارتی مفادات کے لیے تعلقات بہتر بنا رہا ہے، ہمیں اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے پاس انھیں دینے کے لیے کیا ہے۔