کراچی قانون کی حکمرانی ناگزیر

منٹوں میں ہنستے بستے، جیتا جاگتے شہر میں رونما ہونے والا ایک واقعہ شہرمیں خوف وہراس کی فضا پیداکردیتا ہے۔


Editorial January 29, 2015
نہ جانے کیوں کوئی بھی حکومت عوام کے دکھ اور مصائب وآلام کو محسوس نہیں کرتی ہے حالانکہ وہ ان ہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایم کیوایم کے یوم سوگ کے موقعے پر جمعرات کو کراچی، حیدرآباد ، سکھر اور نواب شاہ سمیت سندھ کے دیگر شہروںمیں پیٹرول پمپ بند اورسڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بازار اورنجی اسکول بھی بند رہے۔

جامعہ کراچی، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی اورملحقہ اداروں میں امتحانی پرچے ملتوی کردیے گئے ۔مگر لندن سے اچانک متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم سے اپنا تعلق ختم کرنے اور حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام پر آخری خطاب کرنے کے فیصلے سے پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کو آگاہ کیا ۔یہ ایک تہلکہ خیز پیش رفت اور سندھ میں پولیس اور رینجرز کے غیر معمولی اقدامات کے حوالے سے صورتحال کا تشویش ناک تناظر بھی ہوسکتا ہے۔

ادھر وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ نے ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج سہیل احمد کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماورائے آئین کسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب کہ انھوں نے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی رینجرز اورآئی جی سندھ سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ بھی کارکن کے قتل کی تحقیقات عدالتی کمیشن سے کرانے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی سندھ کی مقبول ترین جماعتیں ہیں ، انھیں افہام و تفہیم کے راستے چلنا چاہیے تاکہ امن کی راہ ہموار ہوسکے۔ افسوس کہ کراچی سے امن اورسکھ چین کورخصت ہوئے برسوں بیت گئے، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری،اغوا برائے تاوان شہرکا ٹریڈ مارک بن گئے ۔پہلے کراچی سے فیشن چلتا تھا اب فسادات اورہنگامے پھوٹتے ہیں ۔

منٹوں میں ہنستے بستے، جیتا جاگتے شہر میں رونما ہونے والا ایک واقعہ شہرمیں خوف وہراس کی فضا پیداکردیتا ہے ۔کاروبار بند ہونے لگتا ہے ، سڑکوں پر ٹریفک جام ہوجاتا ہے۔ لٹیرے ٹریفک جام میں شہریوں کو لوٹنا شروع کردیتے ہیں ۔عام شہری کا ذکر تو کجا ،سیاسی ورکر سمیت اہم سرکاری افسران،اہم شخصیات، پولیس اوررینجرزکے اہلکارروزانہ سفاک بے رحم اور مشاق قاتلوں کا نشانہ بنتے ہیں۔شہر قائد پاکستان کی معاشی و اقتصادی شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک دن کی ہڑتال سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے،لاکھوں دیہاڑی دار مزدروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں ۔

نہ جانے کیوں کوئی بھی حکومت عوام کے دکھ اور مصائب وآلام کو محسوس نہیں کرتی ہے حالانکہ وہ ان ہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں ۔کراچی آپریشن بھی زوروشور سے چل رہا ہے، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی لیاری گینگ وار اورکالعدم تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی کررہے ہیں ، دہشت گرد مارے جارہے ہیں ، گرفتار ہورہے ہیں رینجرز اور پولیس اہلکارجام شہادت نوش کررہے ہیں ۔اس سب کے باوجود کراچی کے شہری غیر محفوظ ہیں،اور عدم تحفظ کے احساس نے انھیں ذہنی وقلبی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ۔ سندھ میں دو مقبول جماعتوں کے درمیان سیاسی گرما گرمی اسمبلی سے لے کر عام کارکنوں کی جانب منتقل ہو رہی ہے ۔

الزامات در الزامات اورجواب درجواب کا سلسلہ چل نکلا ہے ،جو ایک افسوسناک صورتحال ہے، سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اپنے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے ،سیاسی برہمی ، سڑکوں کے مظاہرے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں سے امن کی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہونگی۔ امید ہے کہ ارباب اختیار قانون کی حکمرانی اور افہام و تفہیم سے کراچی کو آتش فشاں بنانے سے گریز کریں گے۔اسی میں اس شہر اور ملک کا مفاد مضمر ہے۔