مستعفی گورنر پنجاب کی سچی باتیں اور حکمرانوں کی ذمے داریاں

گورنر نے جن خرابیوں کی نشاندہی کی حکمرانوں کو اس پر غور کرنا اور انھیں دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔


Editorial January 30, 2015
لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں پر 23 ملین بچے اسکولوں میں نہیں جا رہے بلکہ وہ جاگیرداروں، صنعتکاروں اور بااثر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتے ہیں، فوٹو : فائل

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گزشتہ روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اوورسیز پاکستانیوں اور عوام کے مسائل حل نہ کرنے پر اپنی ناکامی کا اعتراف کرتا اور ان سے معافی مانگتا ہوں، پنجاب میں قبضہ اور لینڈ مافیا گورنر سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے، ظلم ناانصافی بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور قاتل دندناتے پھرتے جب کہ مدعی انصاف کے لیے دربدر ہیں، جب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے اس وقت تک پاکستان میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی، لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں پر 23 ملین بچے اسکولوں میں نہیں جا رہے بلکہ وہ جاگیرداروں، صنعتکاروں اور بااثر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتے ہیں اور 68 سال گزرنے کے باوجود آج بھی نصف آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔

گورنر پنجاب نے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے کسی حکومتی شخصیت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ انھوں نے موجودہ نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل پر زور دیا۔ گورنر نے جن خرابیوں کی نشاندہی کی حکمرانوں کو اس پر غور کرنا اور انھیں دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ جب تک یہ مسائل حل نہیں ہوتے پاکستان ترقی کی جانب رواں دواں نہیں ہو سکتا۔ لازم ہے کہ معاشرے کے پسے ہوئے اور پسماندہ لوگوں کو بھی ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جائے۔