چاروں صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورس کی ضرورت

دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سول سطح پر پہلی بار انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی گئی ہے


Editorial February 01, 2015
داخلی خطرات سے نمٹنا صرف فوج ہی کا کام نہیں سول اداروں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کریں، فوٹو : اے پی پی

PESHAWAR: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو لاہور میں انسداد دہشت گردی فورس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں ہر حال میں جیتنی ہے، دہشت گردوں کا آخری وقت آ چکا ہے، جلد ملک سے دہشت گردی کا نام و نشان مٹا دیں گے، قومی ایکشن پلان پر عمل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور تمام قومی ادارے متحد ہو چکے ہیں۔

ہفتے کو لاہور میں پولیس کے ٹریننگ اسکول میں انسداد دہشت گردی فورس کے پہلے دستے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔ انسداد دہشت گردی فورس کے پہلے دستے میں 16 خواتین سمیت 421 اہلکاروں نے تربیت مکمل کی۔

دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سول سطح پر پہلی بار انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی گئی ہے جو ایک خوش آئند امر ہے یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حقیقی معنوں میں پرعزم ہے اور اس نے یہ فورس تشکیل دے کر عملی قدم اٹھایا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کا دائرہ جس قدر وسعت اختیار کر چکا ہے وہ اس امر کا متقاضی چلا آ رہا تھا کہ اس سے نمٹنے کے لیے بیانات سے ہٹ کر اپنے معنی و مفہوم کے مطابق ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جو دہشت گردوں کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے ان کا خاتمہ کرسکے۔دہشت گردی کے ہونے والے واقعات اس امر کے عکاس تھے کہ موجودہ پولیس اپنی روایتی تربیت اور فرسودہ ہتھیاروں کے بل بوتے پر دہشت گردوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،اس طرح یہ ناسور نہ صرف چیلنج بناہوا تھا بلکہ وقت کے ساتھ مزید پیچیدہ اور گھمبیر ہوتا چلا جا رہا تھا۔

حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک تھا لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فوج کے تعاون سے انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی گئی ہے جو جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پولیس کی ٹریننگ پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) نے کی۔ صوبہ خیبر پختونخوا، کوئٹہ اور کراچی میں امن و امان کی جو بگڑتی صورت حال ہے جس طرح یہ علاقے دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں وہ اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان صوبوں میں بھی انسداد دہشت گردی فورسز کا فی الفور قیام عمل میں لایا جائے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اس حوالے سے کہا کہ ہم نے اپنی تربیتی استعداد کو وسعت دی ہے اور ہم اپنے تربیتی پروگرام کو پورے ملک تک پھیلائیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایسے ہی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جلد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ کراچی اور کوئٹہ کا دورہ کروں گا جہاں سیاسی قیادت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کو یقینی بنانے کی حکمت عملی بنائیں گے، پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس کا قیام اہم ہے امید ہے باقی صوبے جلد انسداد دہشت گردی کے قیام کے عمل کو یقینی بنائیں گے۔

جس طرح جمعہ کے روز شکار پور میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اس کے بعد ناگزیر ہو چکا ہے کہ تمام صوبے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے انسداد دہشت گردی فورس کا قیام عمل میں لائیں کیونکہ موجودہ پولیس دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ فوج وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے لیکن وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ داخلی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جدید تربیت اور ہتھیاروں سے مسلح سول فورس بھی موجود ہو اور فوج اندرونی مسائل سے نمٹنے کے بجائے سرحدوں کی حفاظت کے اپنے فرائض سرانجام دیتی رہی۔

داخلی خطرات سے نمٹنا صرف فوج ہی کا کام نہیں سول اداروں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کریں۔ فوج تو ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے قربانیاں تو دے ہی رہی ہے اب وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی آگے بڑھ کر دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں اب تک ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے تناظر میں جو صورت حال سامنے آئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں موجود دہشت گردوں کے باہمی رابطے اور تعاون موجود ہے اور دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کر کے افغانستان میں فرار ہو جاتے ہیں۔

اس حوالے سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے عندیہ دیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، بہت جلد دہشت گردوں کو خطے میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ ماضی کے برعکس افغانستان کی موجودہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے جو خوش کن امر ہے۔ اگر دونوں ممالک مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں تو امید ہے کہ اس خطے کو دہشت گردی اور انتہاپسندی سے پاک کر دیا جائے گا۔

یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے اگر حکومت پرعزم ہو اور دہشت گردوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان کے خاتمے پر ڈٹ جائے تو دہشت گردی کا خاتمہ یقینی امر ہے۔ دہشت گردی کا زہر جس طرح پورے ملک میں سرائیت کر چکا ہے حکومت کو گراس روٹ لیول پر عوامی تنظیموں کو بھی متحرک کرنا چاہیے کیونکہ عوام کا تعاون ہی کسی مہم کی کامیابی کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔