دورۂ پاکستان بنگلہ دیش نے گیند آئی سی سی کے کورٹ میں ڈال دی

ورلڈ گورننگ باڈی اور ہماری حکومت سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے پر ہی انٹرنیشنل ٹیمیں بھیجنے کا فیصلہ کریں گے، بی سی بی


Sports Desk February 02, 2015
ورلڈ گورننگ باڈی اور ہماری حکومت سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے پر ہی انٹرنیشنل ٹیمیں بھیجنے کا فیصلہ کریں گے، بی سی بی۔ فوٹو: فائل

بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ نے دورئہ پاکستان کیلیے گیند آئی سی سی اور حکومت کے کورٹ میں ڈال دی ہے۔

بی سی بی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد اجازت ملنے پر ہی اپنی انٹرنیشنل ٹیمیں بھیجنے کا فیصلہ کرینگے، ویمنز اور اکیڈمی سائیڈز فوری بھجوانے کیلیے تیار ہیں،گرین شرٹس کے اپریل ، مئی میں ٹورکی آمدن کا حصہ دینے کی شرائط پر بات چیت جاری ہے،کسی صورت میں سیریز کی منسوخی کے متحمل نہیں ہوسکتے، ایک سابق عہدیدار کے مطابق پاکستان کا مطالبہ مان لینے سے غلط روایت قائم ہوگی،آئندہ ''بگ تھری'' بھی اسی نوعیت کا تقاضا کرسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آئی سی سی فیوچر ٹور پروگرام کے تحت پاکستان ٹیم کو اپریل اور مئی میں بنگلہ دیش کا دورہ کرنا ہے جس کے دوران 2ٹیسٹ، 3ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی20 میچ شیڈول کیے جائیں گے، تاہم پی سی بی کی جانب سے مطالبات سامنے آئے تھے کہ سیریز کی آمدن کا 50فیصد دینے کیساتھ جوابی ٹور پر انڈر 19اور اے ٹیم کو پاکستان بھجوانے کی تحریری یقین دہانی کرائی جائے، بی سی بی نے مطالبات کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ باہمی ٹورز کیلیے ماضی میں کبھی ایسی شرائط کی روایت نہیں دیکھی۔

اس صورتحال میں دونوں کرکٹ بورڈز کے چیف ایگزیکٹیوز کی دبئی میں آئی سی سی میٹنگ کے دوران ملاقات میں برف پگھلنے کی توقع کی جارہی تھی تاہم کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، بی سی بی کے سی ای اونظام الدین چوہدری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ایسے معاملات غور طلب ہیں جن کے بارے میں تنہا فیصلے نہیں کرسکتے، فیوچر ٹور پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کو آئندہ 2 باہمی سیریز میں پاکستان کی میزبانی کرنا ہے، اگر حالات نے اجازت دی تو اگلی 2 سیریز پاکستان میں ہونگی۔

دوسری صورت میں دونوں ملک مل کر وینیو کا فیصلہ کرسکتے ہیں،اتوار کو بی سی بی کا یہ موقف سامنے آگیا کہ بنگلہ دیشی ٹیموں کی پاکستان آمد کا معاملہ آئی سی سی اور حکومت کا ہے، اگر سیکیورٹی کلئیرنس کے بعد اجازت ملی تو انٹرنیشنل ٹیمیں بھیجنے کیلیے تیار ہیں، تاہم ویمنز اور اکیڈمی ٹیموں کو فورا پاکستان بھیجا جاسکتا ہے، بی سی بی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے کیے جانے والے ریونیو مطالبے کے حوالے سے بھی کئی آپشن زیر غور ہیں، بنگلہ دیش کسی صورت بھی پاکستان ٹیم کے دورے کی منسوخی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب بی سی بی کے ایک سابق عہدیدار نے کہا ہے کہ پی سی بی کے مطالبات تسلیم کرنے سے ایک غلط روایت پڑے گی،آئندہ ''بگ تھری'' میں شامل بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی ٹیمیں بھی بنگلہ دیش آمد کیلیے اسی طرح کی شرائط رکھیں گی۔ پی سی بی کے ایک عہدیدارکا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کو باہمی سیریز کے معاملات خود طے کرنے کی آزادی دے رکھی ہے، ہم کسی ٹیم یا بورڈکو کمتر سمجھنے کی سوچ نہیں رکھتے، تاہم ہمیں اپنے مفادات میں فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، دبئی میں دونوں ملکوں کے حکام کی ملاقات کے دوران اپنے مطالبات کی وجوہات بیان کی ہیں،انھوں نے اپنی حکومت سے رابطے کے بعد بات آگے بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔