چین میں زیادہ گولڈ میڈلز کی سوچ ختم کرنے کا مطالبہ سامنے آگیا

گولڈ میڈلز کی خواہش نے چند ایتھلیٹس اور کوچز کو حصہ لینے سے روکا جو مقابلوں میں اچھے نتائج نہ دے سکتے تھے۔


Sports Desk February 03, 2015
گولڈ میڈلز کی بے اصولی، غیر قانونی اور فریب کارانہ تلاش نے نہ صرف اسپورٹس کی روح کو مسخ کیا فوٹو:: فائل

چین کے کھیلوں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے حکومت کی زیادہ سے زیادہ گولڈ میڈلز کی سوچ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

انھوں نے ایسا حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے رشوت ستانی کے خلاف ادارے کی میچ فکسنگ اور اسپورٹس میں دھوکا دہی کے خلاف تنبیہ پر کیا، کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں کھیلوں کے وقار کو اہمیت دیں اور منفی سرگرمیوں سے بچیں۔ چین کے کئی پلیئرز نے کھیلوں میں گذشتہ اسکینڈلز کو چین کی کسی بھی قیمت پر میڈلز جیتنے کی جستجو سے منسلک کیا، انھوں نے سوویت طرز کے اسپورٹس سسٹم پر تنقید کی جس میں ایتھلیٹس پر کامیابی کیلیے غیر معمولی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف اسپورٹس کا کہنا ہے کہ گولڈ میڈلز کی خواہش نے چند ایتھلیٹس اور کوچز کو حصہ لینے سے روکا جو مقابلوں میں اچھے نتائج نہ دے سکتے تھے۔ ایجنسی نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہاکہ گولڈ میڈلز کی بے اصولی، غیر قانونی اور فریب کارانہ تلاش نے نہ صرف اسپورٹس کی روح کو مسخ کیا بلکہ کیریئر ڈیولپمنٹ اور قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچایا۔ بیان میں کہا گیاکہ اس نے کھیلوں کے تصور کو پھیکا کردیا جو اس کی اقدار کے منافی ہے۔