شیخ زید اسپتال لاڑکانہ بچوںکی ہلاکت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری

اسپتال میں عملے کی تعداد میں بھی فوری اضافہ کیا جانا چاہئے تاکہ کام کا لوڈ کم کیا جا سکے


Staff Reporter October 05, 2012
ڈلیوری تجربے کار ڈاکٹرسے کرانے کیلیے عوام میں شعور اجاگر کیاجائے، کمیٹی کی سفارشات۔ فوٹو: فائل

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرصغیر احمدکی ہدایت پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے شیخ زید اسپتال لاڑکانہ میں نومولود بچوںکی ہلاکت کے بارے میں انکوائری مکمل کرکے تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرصغیر احمد نے شیخ زیداسپتال لاڑکانہ میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے بارے میں خبروں کے نشر ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے ڈا ئریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر فیروز میمن کی سربراہی میں 3رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس کے دیگر اراکین میں ڈاکٹر خورشید احمد عباسی پروفیسر آف پیڈیا ٹرکس چانڈ کا میڈیکل اسپتال لاڑکانہ اور پروفیسر سیف اللہ جامرو، پروفیسر آف پیڈیا ٹرکس چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ شامل تھے۔

کمیٹی کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بچوں کی اموات مختلف طبی وجوہات کے باعث واقع ہوئیں جن میں نیونیٹل اسیپسزپیدائش کے وقت بچوں کا وزن کم ہونا، دم گھٹنا،گردن توڑ بخار شامل ہیں ، رپورٹ کے مطابق جس وقت انھیں اسپتال لایاگیا ان کی حالت تشویشناک تھی اور ان کے بچنے کے امکانات نہایت کم تھے،کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ڈلیوری کسی تجربے کار ڈاکٹر کی زیرنگرانی کرائی جائے تاکہ مختلف اقسام کے انفیکشنزسے بچا جا سکے جوکہ بچوں میں اموات کا بڑا سبب ہیں جبکہ اسپتال میں عملے کی تعداد میں بھی فوری اضافہ کیا جائے تاکہ کام کا لوڈ کم کیا جا سکے۔

سفارشات میں مزیدکہا گیا ہے کہ چلڈرن اسپتال سے متصل بلڈنگ کی تعمیر کا کام جلد مکمل کیا جا ئے تاکہ ایک مکمل سہولیات سے آراستہ مزیداسٹاف کے ساتھ بستروں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہوسکے جس سے اموات کی شرح کوکنٹرول کیا جاسکے گا، انکوائری کمیٹی نے سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال کے مرکزی دروازے پر پولیس چوکی قائم کی جائے تاکہ اسپتال میں موجود اسٹاف مکمل یکسوئی کے ساتھ مریضوں کو علاج معالجے کی فراہمی کا فریضہ انجام دے سکیں ۔

مقبول خبریں