اقتصادی استحکام خدشات دم توڑ گئے

عالمی مالیاتی ادارہ ہو اس کی ترجیحات اور پابندیاں بادی النظر میں ملکی معیشت کی سمت درست کرنے سے مشروط ہوتی ہیں۔


Editorial February 06, 2015
توانائی بحران اعصاب شکن ہے، گیس، سی این جی کی قلت، فرسودہ ٹرانسپورٹ سسٹم، اور شدید مہنگائی و بیروزگاری کا حل ایک ایسی شفاف ، عوام دوست ، اور فعال معیشت ہے جو اقتصادی غلامی اور استحصال سے پاک ہو۔ فوٹو: فائل

KARACHI: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے اور اس نے پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر کی چھٹی قسط جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ دبئی میں پاکستانی معیشت کے چھٹے جائزے کے لیے ہونیوالے مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینکس کے ساتھ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ حکومت نے اقتصادی بحالی کے لیے مقرر کیے گئے تمام اہداف حاصل کرلیے۔

مالی خسارے اور مرکزی بینک سے حکومتی قرضوں میں کمی آئی، زرمبادلہ کے ذخائر بھی 15 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے جس کے نتیجے میں پاکستان عالمی بینک کی ایسوسی ایشن برائے بین الاقوامی ترقی سے قرضہ حاصل کرنیکا اہل ہوگیا، معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات دم توڑ گئے ہیں۔ آئی ایم ایف یا کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ ہو اس کی ترجیحات اور پابندیاں بادی النظر میں ملکی معیشت کی سمت درست کرنے سے مشروط ہوتی ہیں تاہم حکمرانوں اور ہمارے مالیاتی ماہرین کو اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ قومی معیشت کو خود انحصاری کی ضرورت ہے نہ کہ اربوں کے پہاڑ جیسے غیر ملکی قرضوں کی۔

اسی تناظر میں وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کہنا کہ اب ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات دم توڑ گئے ایک خوش آیند اعلان ہے مگر قوم کو آگاہ رکھنا چاہیے کہ دیوالیہ ہونے کے امکانات یا خدشات کی بنیادی وجوہ کیا تھیں۔ مذکورہ مذاکرات میں پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور آئی ڈی پیز کے لیے 150 ارب روپے کی ضرورت ہے، ٹیکس ہدف میں 60 ارب روپے کی کمی پر بھی اتفاق کیا گیا اور جون تک ٹیکس کا ہدف 2750 ارب روپے رکھنے پر اتفاق ہوا، یہ بھی مناسب پیش رفت ہے تاہم پاکستان نے اگر یہ واضح کردیا کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں تبدیلی نہیں کی جائے گی تو اس کمٹمنٹ کو پورا کرنا ناگزیر ہے، توانائی بحران اعصاب شکن ہے، گیس، سی این جی کی قلت، فرسودہ ٹرانسپورٹ سسٹم، اور شدید مہنگائی و بیروزگاری کا حل ایک ایسی شفاف ، عوام دوست ، اور فعال معیشت ہے جو اقتصادی غلامی اور استحصال سے پاک ہو۔

ادھر امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی امداد دینے کی حالیہ تجویز خطے کے مجموعی مفاد میں ہے ۔ یہ بات بھارت کے لیے امریکی سفیر رچرڈ ورما نے جمعرات کو کہی۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کا مقصد پاکستان کو محفوظ جمہوری اور مستحکم ملک دیکھنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات خطے کے مجموعی مفاد میں ہے کہ پاکستانی عوام ملک میں جمہوریت اور استحکام کی حمایت جاری رکھیں۔

ادھر آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 2810 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف ناقابل حصول قرار دیدیا ہے جب کہ پاکستان نے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اضافی ریونیو اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ بلاشبہ ہمہ جہتی اقتصادی استحکام ملکی سالمیت اور جمہوری عمل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اس پر ارباب اختیار خاص نظر رکھیں۔