بازاروں کا دورہ وزیراعظم کا اچھا اقدام

وزیراعظم کی جانب سے عوام کے مسائل سے براہ راست آگاہی کے لیے بازاروں کا دورہ خوش آیند امر ہے۔


Editorial February 10, 2015
حکومت کو آئے دو سال ہونے والے ہیں مگر ابھی تک معاشی ترقی کے ایجنڈے واضح نہیں ہو سکے اور مارکیٹ پر جمود کی کیفیت جوں کی توں طاری ہے، فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اتوار کو عوامی مسائل سے آگاہی کے لیے اسلام آباد کی آب پارہ مارکیٹ اور جی ٹین مرکز کا دورہ کیا' دکانداروں اور گاہکوں سے مختلف چیزوں' سبزیوں اور پھلوں کے نرخ پوچھے اور چند ماہ پہلے والی قیمتوں سے موازنہ کر کے عوام کو ملنے والے ریلیف کا اندازہ لگایا۔

اس موقع پر لوگوں نے حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اقدام کو سراہا تاہم بڑی تعداد میں شہریوں نے وزیراعظم سے ٹرانسپورٹ کرائے کم نہ ہونے کا شکوہ کیا۔ عوام سے براہ راست خطاب میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قلت کے دونوں مسائل کو موجودہ حکومت کے دور میں حل کر لیا جائے گا' گیس کی قلت اگلے دو سال میں ختم کر دی جائے گی' ملک میں بہت سنگین مسائل ہیں لیکن حکومت کی جانب سے عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے عوام کے مسائل سے براہ راست آگاہی کے لیے بازاروں کا دورہ خوش آیند امر ہے۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ حکومت کو ہمیشہ سب اچھا کی رپورٹ دی جاتی اور اسے عوام کے حقیقی مسائل سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکمران اگر عوام سے براہ راست خود رابطہ کریں تو انھیں اصل صورت حال سے آگاہی ہوتی ہے اور اس طرح عوام کے مسائل بھی حل ہونے لگتے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ملک کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں کا دورہ کرکے شہریوں سے براہ راست ان کے مسائل معلوم کریں تو اس طرح سرکاری مشینری بھی متحرک ہو جائے گی اور عوام کے مسائل حل ہونے لگیں گے جس سے ملک میں حقیقی معنوں میں بہتری پیدا ہوگی۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی اس کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے' جس کے معیشت پر یقیناً خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ سبزیوں اور پھلوں کے نرخ میں کمی آئی ہے مگر ابھی تک روزمرہ کی دیگر اشیائے ضرورت دودھ،گھی،دالیں،کپڑوں ،جوتوں اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی دکھائی نہیں دے رہی۔

ٹرانسپورٹ کے کرائے کم نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ دیکھا گیا ہے کہ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت ہر چیز کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں مگر جب پٹرول کی قیمت میں کمی آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے' اسے حکومتی رٹ کی کمزوری کہیں یا پھر منافع خور مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ وہ حکومتی احکامات کسی خاطر میں نہیں لاتا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کے بعد حکومت فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کرکے اس پر عملدرآمد یقینی بناتی مگر ابھی تک عوامی شکایت کے بعد بات نوٹس لینے سے آگے نہیں بڑھی۔ اس وقت بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتی شعبہ متاثر ہونے سے بیروز گاری میں اضافہ ہوا ہے جس سے معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ عندیہ دیا ہے کہ آیندہ دو سال میں گیس کی قلت ختم ہو جائے گی لیکن انھیں یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ یہ قلت کیسے دور ہو گی اور حکومت اس کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا تعلق عالمی مارکیٹ سے جڑا ہوا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی بیشی کا تعین قلیل المدتی ہوتا ہے جس کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ غیر یقینی صورت حال کا شکار رہتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سالانہ بنیادوں پر پٹرول کی قیمتوں میں کمی بیشی کا تعین کیا جائے' اس سے معیشت میں گومگو کی کیفیت ختم ہونے سے اس میں استحکام پیدا ہو گا۔ بعض مبصرین کی جانب سے یہ اعتراضات بھی کیے جا رہے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں جتنی کمی ہوئی ہے اس شرح سے پاکستان میں اس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی گئی جب کہ اس میں ابھی تک مزید کمی کی گنجائش باقی ہے۔

حکومت کو آئے دو سال ہونے والے ہیں مگر ابھی تک معاشی ترقی کے ایجنڈے واضح نہیں ہو سکے اور مارکیٹ پر جمود کی کیفیت جوں کی توں طاری ہے' توانائی کا بحران بھی معیشت کی ترقی کی راہ میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے اور حکومت ابھی تک دعوؤں اور بیانات سے آگے نہیں بڑھی' امن و امان کی صورت حال بھی کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں ہے' بیروز گاری کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

تھانوں' کچہریوں اور دیگر سرکاری اداروں میں عوام کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بھی سامنے نہیں آیا۔ عوام کی ابھی تک سرکاری اداروں سے شکایات بدستور موجود ہیں جہاں کرپشن اور رشوت عام ہے اور حکومت اس کے خاتمے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ اگر حکومت عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے کوئی اقدامات کر رہی ہے تو وہ نظر بھی آنے چاہئیں صرف بیانات دینا ہی کافی نہیں ہوتا۔