سندھ کے لاوارث مسلم لیگی

غوث علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی رکنیت کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے


Muhammad Saeed Arain February 10, 2015

تاحال مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ سردار ممتاز علی بھٹو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ہمارے اعتماد پر پورے نہیں اترے اور ہم نے مسلم لیگ (ن) میں ضم ہوکر بڑی غلطی کی ہے اور اب اپنے دوستوں سے سندھ نیشنل فرنٹ کو بحال کرنے پر مشاورت کر رہے ہیں۔

سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور اپنی مسلم لیگ ارباب کو مسلم لیگ (ن) میں ضم کرنے والے ارباب غلام رحیم کو بھی شکایت ہے کہ انھیں (ن) لیگ میں کوئی نہیں پوچھ رہا۔ وزیراعظم کراچی آتے ہیں تو انھیں کچھ نہیں بتایا جاتا بس مخصوص لوگ میاں نواز شریف کے ساتھ نظر آتے ہیں نہ وزیر اعظم کراچی میں مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ملتے ہیں نہ (ن) لیگی ارکان اسمبلی سے ملتے ہیں۔

سندھ کے ایک اور سابق وزیر اعلیٰ سید غوث علی شاہ (ن) لیگ کے پرانے رہنما ہیں جو نواز دور میں وزیر دفاع اور (ن) لیگ سندھ کے طویل عرصہ صدر رہے ہیں مگر وزیر اعظم سے مایوس ہو کر انھوں نے صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا مگر اب تک انھوں نے (ن) لیگ سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے انھیں قومی اسمبلی کا ممبر قرار دیا تھا مگر (ن) لیگی حکومت نے انھیں حلف اٹھانے کا موقع نہیں دیا اور ان کے حریف کو سپریم کورٹ سے حکم امتناعی مل گیا تھا۔

غوث علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی رکنیت کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے جس سے قائم علی شاہ خوفزدہ ہیں اور فاضل جج کے لیے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ غوث علی شاہ جیسے سینئر مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو جس طرح وزیر اعظم نے نظرانداز کر رکھا ہے اس سے (ن) لیگی کارکنوں میں شدید مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔

نواز شریف کی دوسری حکومت میں سندھ کے وزیر اعلیٰ رہنے والے لیاقت جتوئی نے (ن) لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا، مگر سندھ میں وزیر اعظم کی طرف سے (ن) لیگ کو نظرانداز کیے جانے سے دلبرداشتہ ہو کر انھوں نے (ن) لیگ سے استعفیٰ دے دیا تھا مگر بعد میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر انھیں الیکشن ٹریبونل نے کامیاب قرار دے دیا اور وہ (ن) لیگ کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی میں اپنی رکنیت کا حلف اٹھا چکے ہیں اور ارباب غلام رحیم بھی اسمبلی میں دلچسپی لے رہے ہیں اور لیاقت جتوئی کے ساتھ مل کر اپوزیشن کا موثر کردار ادا کر رہے ہیں مگر وزیر اعظم نے سندھ کے ان دونوں سابق وزرائے اعلیٰ کو اہمیت نہیں دی اور کبھی انھیں کراچی کے کسی اجلاس میں نہیں بلایا۔

سندھ کے ایک وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی نے بھی مداخلت پر وزارت سے احتجاجاً استعفیٰ دے رکھا ہے۔ انھوں نے بھی اپنی نیشنل پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) میں ضم کر رکھی ہے مگر این پی پی کے ان نئے مسلم لیگیوں کو بھی سندھ میں نظرانداز کیا جا رہا ہے اور این پی پی کے مایوس رہنما اور کارکن بھی خود کو لاوارث سمجھے بیٹھے ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر شکارپور سے منتخب رکن سندھ اسمبلی امتیاز احمد شیخ کو وزیر اعظم نے اپنا معاون خصوصی بنا رکھا ہے انھوں نے بھی سندھ سے متعلق وزیر اعظم کی پالیسی پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کے معاملے میں وزیر اعظم کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ قومی اسمبلی اور سندھ میں حکومت میں شامل تو نہیں مگر (ن) لیگ کی الیکشن 2013ء کے بعد سے حلیف رہی ہے جس کو سندھ حکومت، وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی سے شکایات ہیں اور اس کے کراچی میں وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں جاری آپریشن پر بھی تحفظات ہیں مگر وزیر اعظم نواز شریف کراچی کے اپنے حالیہ دورے میں وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کی تعریف کر کے شاباش دے کر گئے ہیں جس پر سندھ میں (ن) لیگ کے حلیف اور ارباب غلام رحیم بھی حیران ہو کر رہ گئے ہیں۔

سابق صدر پاکستان اور آل پاکستان مسلم لیگ کے قائد پرویز مشرف بھی کراچی میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان سے پیر پگاڑا، مخدوم امین فہیم اور سنی تحریک کے رہنماؤں نے بھی ملاقات کی ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خیال میں جنرل (ر) پرویز مشرف پی پی کی سندھ حکومت کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف اب (ن) لیگ کی قیادت فوجی ناراضگی کے باعث ٹھنڈی پڑ چکی ہے اور شاید وفاقی وزیروں کی اس سلسلے میں وزیر اعظم نے زبان بندی کر دی ہے اور سرکاری سطح پر اب خاموشی چھائی ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ق) سندھ میں برائے نام مگر کراچی میں اس کے صوبائی صدر حلیم عادل شیخ کی سرگرمیوں کے باعث کچھ وجود رکھتی ہے اور چوہدری برادران کے مسلم لیگ (ن) کے پیر پگاڑا اور آل پاکستان مسلم لیگ کے پرویز مشرف سے اچھے تعلقات ہیں مگر نواز شریف (ق) لیگ کے چوہدریوں کو اہمیت نہیں دے رہے اور چوہدری برادران بھی وزیر اعظم پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سندھ میں مسلم لیگ (ن) کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے البتہ کراچی سے ایک رکن قومی اسمبلی اور چار ارکان سندھ اسمبلی کے علاوہ وہ آزاد ارکان جنھوں نے مسلم لیگی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، وہ بھی وزیر اعظم سے مطمئن نہیں کیونکہ سندھ میں (ن) لیگ والوں کو سندھ حکومت میں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ضلع ملیر کے صدر چوہدری شاہد اقبال پر پی پی رہنماؤں نے جھوٹے مقدمے بنوا رکھے ہیں اور وہ چند ماہ قبل چوہدری شاہد پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو رہا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وفاقی حکومت حقائق جاننے کے باوجود بے بس ہے، حالانکہ محکمہ داخلہ کے وزیر مملکت بلیغ الدین خود چوہدری شاہد کی عیادت کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر اسمٰعیل راہو، ٹھٹھہ کے شیرازیوں اور دیگر لیگیوں کو بھی سندھ حکومت سے انتقامی کارروائیوں کی شکایات ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کے خوف کی وجہ سے پی پی اور سندھ حکومت کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے۔ انھیں اپنے باقی رہ جانے والے (ن) لیگیوں کی شکایات سے کوئی سروکار ہے نہ سندھ میں لاوارث مسلم لیگ (ن) کی کوئی فکر۔

سندھ میں (ن) لیگ والے مجبوری میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں کیونکہ وفاق ان کی داد رسی نہیں کر رہا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو سندھ میں اپنے چار سابق وزرائے اعلیٰ کی ناراضگی کا تو یقینی پتہ ہو گا وہ ان ہی کی شکایات پر توجہ نہیں دے رہے تو سندھ میں عام (ن) لیگیوں کو کون پوچھے گا۔ (ن) لیگی اپنی سرپرستی کے خواہاں ہیں اور وزیر اعظم کی پالیسی سے لاوارث ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم سندھ کو پی پی کے حوالے کر چکے ہیں اور سندھ بھر میں تنقید کا نشانہ بننے والے وزیر اعلیٰ کو شاباشی دے رہے ہیں۔

پرویز مشرف بھی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو ایک کرنے کا مشن شروع کر چکے ہیں جس کی تکمیل کے نتیجے میں سندھ کے مایوس نون لیگیوں کو ایک نیا سہارا مل جانے کی قوی امید ہے۔

مقبول خبریں