بھارت میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے فون کر کے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو مبارکباد دی ہے


Editorial February 11, 2015
ریاست میں گزشتہ 15 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی، فوٹو:فائل

بھارت میں نئی دہلی کے حالیہ ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے70 میں سے 67 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے ملک میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ بھارت میں عام آدمی کی یہ جیت جمہوریت کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پاکستان و بھارت کو برطانیہ کے تسلط سے ایک ساتھ آزادی نصیب ہوئی لیکن تقابلی جائزہ لیا جائے تو جہاں بھارت میں متواتر جمہوری نظام کی جانب پیش رفت اور عوامی فوائد کے لیے دور رس اور سخت اقدامات کیے گئے وہیں پاکستان میں نہ صرف جمہوری نظام ڈولتا رہا بلکہ آمرانہ دور حکومت کو ہٹا کر بھی یہاں وی آئی پی، جاگیردارانہ، وڈیرہ کلچر نے حقیقی جمہوریت کو پنپنے نہ دیا۔ حالیہ بھارتی ریاستی انتخابات میں پاکستان کے لیے بھی کئی اسباق پوشیدہ ہیں۔ بھارت میں انتخابات نہ صرف شفاف ہوتے ہیں بلکہ ہر پارٹی اپنے مخالف کی جیت کو کھلے دل سے تسلیم کرتی ہے۔

مذکورہ انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے فون کر کے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو مبارکباد دی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریاست میں گزشتہ 15 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس پارٹی ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عوام حکومت سے نتائج مانگتے ہیں اور جو حکومت اپنے عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام رہتی ہے، عوام بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اروند کیجریوال کا یہ کہنا صائب ہے کہ جو سچائی کے راستے پر چلتے ہیں کائنات کی طاقتیں بھی ان کی مدد کرتی ہیں۔ انھوں نے اپنی پارٹی سے درخواست کی کہ ذرا سا بھی غرور مت کریں کیونکہ کانگریس اور بی جے پی کا یہ حال غرور کی وجہ سے ہوا، اگر ہم نے بھی یہ کیا تو یہی سبق عوام ہمیں پانچ سال بعد دکھائیں گے۔ پاکستان کے ارباب اختیار اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ان حالات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

شفاف انتخابی عمل ، صبر وتحمل اور جمہوری طرز عمل حقیقی جمہوری نظام کے لیے ازحد ضروری ہے، ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کا شورشرابہ بند ہونا چاہیے تاکہ جمہوریت مضبوطی کی راہ پر گامزن ہوسکے، اگر الیکشن کمیشن غیر جانبدار اور بااختیار ہوگا تو دھاندلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے تو ہم بھی الیکشن میں جیت پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے، بس سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے ، اب پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنا وژن عوامی امنگوں کے مطابق ترتیب دینا ہوگا اور ملک میں حقیقی جمہوریت قائم کرنا ہوگی۔