بلدیاتی الیکشن صوبے تعاون کریں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر صوبوں نے الیکشن کمیشن سے تعاون نہ کیا تو وزرائے اعلیٰ کو طلب کریں گے۔


Editorial February 13, 2015
عدالت کے ان ریمارکس کو انتباہ سمجھنا چاہیے کہ ’’دونوں صوبے دانستہ بلدیاتی انتخابات کو لٹکا رہے ہیں اور ایک 2سال اسی طرح نکالنا چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے بچنے کے لیے کتنے دلچسپ بہانے اور افسوسناک طریقے سندھ اور پنجاب حکومتوں نے اختیار کیے سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایت نے سب آشکارا کردیا ۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے مقدمے میں الیکشن کمیشن سے تعاون نہ کرنے پر پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز اور سیکریٹری لوکل باڈیز کو26 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر صوبوں نے الیکشن کمیشن سے تعاون نہ کیا تو وزرائے اعلیٰ کو طلب کریں گے۔

چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں فل بینچ نے پنجاب اور سندھ حکومتوں کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے بتایا کہ صوبائی حکومت سنجیدہ ہے تاہم بعض اضلاع میں حد بندیوں کا کام جاری ہے اس لیے تاخیر ہو رہی ہے۔ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل فتح محمد ملک نے بتایا کہ اسمبلی میں بل پیش کیا جا رہا ہے ہم نومیر میں بلدیاتی انتخابات کرا سکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ ہے ، مگر ایک طویل عرصہ سے عدالت عظمیٰ کے ریمارکس اور احکامات کے باوجود پنجاب اور سندھ حکومتیں اعلانات اور وعدے کرکے بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور ان کے بہانے کمال کے ہوتے ہیں، اس وقت خیبر پختونخوا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نومبر میں الیکشن کرائیگی۔

مذکورہ تینوں حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے مزید تاخیر نہ کریں، اب شٹل کاک گیم کی گنجائش نہیں، چیف جسٹس نے درست قرار دیا کہ یہ تو وقت گزارنے والی بات ہے، معاملہ اجلاسوں سے حل نہیں ہوگا، ٹھوس اقدام ہونے چاہئیں، عدالت کے ان ریمارکس کو انتباہ سمجھنا چاہیے کہ ''دونوں صوبے دانستہ بلدیاتی انتخابات کو لٹکا رہے ہیں اور ایک 2سال اسی طرح نکالنا چاہتے ہیں۔

جس کی مثال یہ ہے کہ دونوں صوبوں نے اب مردم شماری کا معاملہ اٹھا دیا حالانکہ بلوچستان پرانی مردم شماری پر الیکشن کرا چکا ہے اور خیبر پختونخوا بلدیاتی الیکشن کرانے پر تیار ہے، اب نومبر میں الیکشن کرانے کا کہہ رہے ہیں، معلوم نہیں اس نومبر یا آیندہ سال۔'' امید کی جانی چاہیے کہ سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتیں بلدیاتی الیکشن کرانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گی تاکہ عوام کے روزمرہ مسائل ان کی دہلیز پر جلد سے جلد حل ہوں اور جمہوری نرسریوں کے ان اداروں کی مکمل آبیاری بلاشبہ جمہوری دور حکومت ہی میں ہونی چاہیے۔