وزیراعظم کا سی پی این ای کی تقریب سے خطاب

میڈیا کا کردار سب کے سامنے ہے، اعتراضات اور تحفظات اپنی جگہ مگر جہاں تک قومی سلامتی اور ملکی بقا کا معاملہ ہے۔


Editorial February 15, 2015
تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی خوشحالی اور ترقی میں حکومت کا ساتھ دیں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتے کو لاہور میں سی پی این ای کے زیر اہتمام ''میٹ دی ایڈیٹرز'' پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا حکومت کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کا خاتمہ کرے اور حکومتی امور پر غیر ضروری تنقید اور الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے دو سال کے لیے ریٹنگ اور بزنس کو بھول کر حکومت کا ساتھ دے، دہشتگردی کے واقعات میں غیرملکی ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، ضرب عضب ایک دن میں مکمل نہیں ہوسکتا۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے ذمے داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے' دہشتگردوں کی معاونت کرنے والوں کے خلاف بھی ضرب عضب کی طرز پر آپریشن کرنے کی ضرورت ہے، یہ کام ہم نے کرنا ہے اور اس کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان وسیع پلان ہے، جن فورسز کے ساتھ ہم نے ڈیل کرنی ہے اس میں کچھ وقت لگے گا جب کہ کچھ چیزوں کے نتائج جلد نکلیں گے، کچھ کے بتدریج سامنے آئیں گے تاہم جہاں کام سست ہے وہاں تیز کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور اس کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ اس کے متقاضی ہیں کہ ملکی سطح پر تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں مل کر حکومت کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ مسائل خواہ کتنے ہی گمبھیر اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں جب پوری قوم متحد اور یکسو ہو کر ان سے نجات پانے کے لیے میدان عمل میں اتر آئے تو پھر بہتری کے راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔ سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے میڈیا کو بھی نیشنل ایکشن پلان میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا دو سال تک اپنی ریٹنگ بھول کر قومی معاملات میں حکومت کا ساتھ دے۔

میڈیا کا کردار سب کے سامنے ہے' اعتراضات اور تحفظات اپنی جگہ مگر جہاں تک قومی سلامتی اور ملکی بقا کا معاملہ ہے' میڈیا نے اس سلسلے میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے' دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے میڈیا کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ میڈیا آج بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔

دہشت گردی معاشرے میں نچلی سطح تک سرائیت کر چکی ہے' دہشت گردی کے پھیلاؤ میں حکومتی پالیسیوں کا بھی عمل دخل رہا ہے' کہا جاتا ہے کہ برائی کو شروع ہی میں دبا دینا چاہیے جب دہشت گردی کے خلاف میڈیا آواز اٹھا رہا تھا تو حکومتی حلقوں کی جانب سے اس سے صرف نظر کرنے کی روایتی پالیسی نے اس عفریت کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع فراہم کیا اور اسی کا شاخسانہ ہے کہ آج یہ ناسور ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اس کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور بھارت کا سازشانہ اور مذموم کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا' افغانستان کی کرزئی حکومت نے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے خلاف الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھا' جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا' دوسری جانب بھارت نے بھی ممبئی حملوں کی آڑ میں پاکستان کے خلاف پورے زور شور سے پروپیگنڈا مہم شروع کی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی انھیں تلخ حقائق کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ''دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے خدشات ہیں' بلوچستان کے حوالے سے شواہد بھی موجود ہیں' کہیں کہیں پراکسی وار بھی نظر آتی ہے' پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور الزام تراشی کا خاتمہ ہوچکا ہے'' افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کے حوالے سے اس کی پالیسیوں میں واضح تبدیلی آئی اور افغان حکومت نے جارحانہ اور دشمنی پر مبنی رویہ ترک کر کے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی' کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ ابھی تک افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں اور دہشت گرد افغان سرحد پار کر کے پاکستان میں اپنی مذموم کارروائیاں کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت افغان حکومت سے کئی بار اس سلسلے میں بات کر چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ مبصرین کے مطابق بھارت جہاں مشرقی سرحد پر کشیدگی پیدا کر کے مسائل پیدا کر رہا ہے وہاں وہ افغانستان کے راستے بلوچستان میں گڑ بڑ پیدا کر کے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش میں بھی ملوث ہے۔ بھارت کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا معاملہ کسی بھی سطح پر نہ اٹھائے لیکن پاکستانی حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا تو مسئلہ کشمیر سمیت تمام ایشوز پر بات ہوگی۔

ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اکٹھی ہوں۔ سیاسی نظریات پر اختلاف اپنی جگہ مگر ملکی سلامتی پر کسی قسم کی کوتاہی کا رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے' تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی خوشحالی اور ترقی میں حکومت کا ساتھ دیں۔