انسداد پولیو مہم کا آغاز

سندھ کے 23اضلاع میں سہ روزہ مہم کے دوران 5سال سے کم عمر59لاکھ 47ہزاربچوںکو حفاظتی خوراک پلائی جائے گی۔


Editorial February 18, 2015
پاکستان کی عالمی سطح پر عزت و وقار کی بحالی کے لیے انسداد پولیو مہم کا جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا ایک بار پھر آغاز ہوگیا ہے ، پولیو ٹیموں کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پنجاب میں3 روزہ پولیو مہم میں40 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں،5سال کے ایک کروڑ80لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں جائیں گے، سندھ کے 23اضلاع میں سہ روزہ مہم کے دوران 5سال سے کم عمر59لاکھ 47ہزاربچوںکو حفاظتی خوراک پلائی جائے گی۔

کراچی میں مہم 24فروری سے شروع ہو گی،خیبر پختونخواسمیت قبائلی علاقے فاٹا میں وفاق اورصوبائی حکومت کے باہمی تعاون سے صحت کااتحادمہم کاباقاعدہ آغازکردیاگیا۔پہلے راؤنڈمیں 16 ہزار سیکیورٹی اہلکاروںکی نگرانی میں 14 ہزار سے زائدٹیموں نے بچوں کو پولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے،سوات میں 4روزہ مہم کے پہلے روز ایک شخص نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کر دی۔ ادھر پنجاب کے علاقے جلال پور بھٹیاں میں بھی ایک شخص نے پولیو ٹیم پر حملہ کیا' اخباری خبر میں اسے نیم پاگل بتایا گیا ہے' انسداد پولیو مہم پاکستان میں ہمیشہ خطرے کا باعث رہی ہے' دہشت گردوں نے متعدد بار پولیو ٹیموں پر حملے کیے ہیں جن میں جانی نقصان بھی ہوا ہے ۔

تاہم ان خطرات کے باوجود حکومت کی جانب سے پولیو مہم کو جاری رکھنا قابل تعریف امر ہے' پاکستان کی عالمی سطح پر عزت و وقار کی بحالی کے لیے انسداد پولیو مہم کا جاری رہنا انتہائی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مہم اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وطن عزیز سے پولیو جیسی موذی بیماری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ملک میں دہشت گردی کے باعث پولیو ٹیموں کی حفاظت انتہائی ضروری چیز ہے۔ اس وقت ملک بھر میں دہشت گردی کے خطرات خاصے بڑھے ہوئے ہیں' پولیو ورکرز اپنی جان کے خطرات مول لے کر اس مہم میں شریک ہیں۔ ان کا جذبہ بھی قابل تحسین ہے۔