احتجاج اور سیاسی مفادات

ہم مسلمانوں اور خاص کر پاکستان کے مسلمانوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ نہ صرف مختلف مسالک سے منسلک ہیں


Muhammad Saeed Arain February 18, 2015

ملک میں بے شمار سیاسی، مذہبی اور فرقہ پرستی پر بنی ہوئی جماعتوں کے علاوہ فلاحی تنظیمیں ہیں اور الیکشن کمیشن کے پاس ایک سو سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں اور انھوں نے انتخابی نشانات بھی الاٹ کرا رکھے ہیں اور ڈیڑھ دو درجن کے قریب ایسی جماعتیں ہیں جو قومی اور صوبائی سطح کی اسمبلیوں میں منتخب ہو کر پہنچی ہوئی ہیں۔ چاروں صوبوں میں لسانی اور قوم پرست جماعتیں بھی موجود ہیں جنھیں کبھی بھی کامیابی نہیں ملی اور ان کے سربراہ کبھی اسمبلی کی کوئی نشست نہیں جیت سکے مگر وہ اپنے زیر اثر علاقوں میں احتجاج اور ہڑتالیں کرانے میں ضرور کامیاب رہتے ہیں۔

قوم پرست جماعتوں کو تو دیکھا گیا ہے کہ وہ بعض دفعہ علاقائی ایشوز پر متحد ہو کر احتجاج اور ہڑتال کراتی ہیں مگر بڑی سیاسی جماعتیں اب 5 فروری کو یوم کشمیر کے موقعے پر متحد ہو کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی نہیں کرتیں اور مذہبی جماعتوں کا یہ کردار تو اور بھی افسوس ناک نظر آتا ہے جب وہ گستاخانہ خاکوں کے سلسلے میں بھی متحد نظر نہیں آتیں۔ جس کا تازہ مظاہرہ گزشتہ دنوں کراچی میں نظر آیا تھا جہاں تین مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی، جماعت الدعوۃ اور جے یو پی کے نورانی گروپ، اہلسنت و الجماعت کے زیر اہتمام بڑے بڑے ہورڈنگز پر لگے پینافلیکس کے ذریعے کئی روز قبل گستاخانہ خاکوں کے خلاف مختلف مقامات سے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان اور ان کے رہنماؤں کی بڑی بڑی تصاویر نظر آ رہی تھیں۔

کراچی میں تین مذہبی جماعتوں کے ایک ہی مقصد کے لیے کیے جانے والے ان احتجاجی پروگراموں پر شہریوں کا یہ تبصرہ تھا کہ یہ مذہبی جماعتیں ایک اہم مذہبی ایشو پر ایک ہو کر نہیں بلکہ الگ الگ ہو کر کیوں احتجاج کر رہی ہیں جب کہ ان سب کا اللہ اور رسول ایک ہے سب ایک قرآن اور نبی کے ماننے والے ہیں مگر سیاسی طاقت کے مظاہرے کیے لیے مختلف مسلک رکھنے والی یہ تینوں جماعتیں متحد نہیں ہوئیں اور تینوں نے سیاسی مفاد کے لیے الگ الگ ریلیاں نکالیں۔

ایک خاص بات یہ تھی کہ جماعت اسلامی کی طرف سے اس سلسلے میں لگائے جانے والے ایک پینافلیکس پر قوم سے متحد ہونے کی اپیل بھی درج تھی جس کے مطابق جماعت اسلامی کو چاہیے تھا کہ وہ بڑی سیاسی و مذہبی جماعت ہونے کے باعث خود اتحاد کی پہل کرتی اور باقی دو جماعتوں کی مشاورت سے تینوں متحد ہو کر اگر ایک جگہ سے ریلی نکالتیں تو ملک میں ایک اچھا پیغام جاتا مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ تینوں کو اپنے نبی کی شان میں ایک ہونا منظور نہیں تھا۔ اس لیے تینوں نے اپنے اپنے پرچموں اور پینا فلیکس کے ذریعے اپنی اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا اور پیغام دیا کہ ہم مسلمان ہونے کے ساتھ الگ الگ مسلک کی جماعتیں ہیں اور ایک اہم مذہبی ایشو پر بھی اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں۔

گستاخانہ خاکے شایع کرنے میں بدنام فرانس کے جس اخبار کے دفتر پر حملے میں ہلاکتیں ہوئی تھیں وہ کوئی بہت بڑا ایشو نہیں تھا نہ عیسائیت کے خلاف مسلمانوں کا کوئی اقدام تھا وہ بعض مسلمانوں کا انفرادی فعل تھا مگر اس کے خلاف عیسائیوں نے متحد ہو کر پیرس میں تیس لاکھ افراد کی طاقت کا مظاہرہ کر کے دکھا دیا۔ جس میں عیسائی و غیر عیسائی دنیا کے چالیس رہنماؤں نے شریک ہو کر مسلم دنیا کو پیغام دیا کہ اتحاد اس کو کہتے ہیں۔

ہم مسلمانوں اور خاص کر پاکستان کے مسلمانوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ نہ صرف مختلف مسالک سے منسلک ہیں بلکہ ایک ہی مسلک والوں کی بھی کئی کئی اقسام ہیں جو کبھی مسلکی بنیاد پر ایک نظر نہیں آتیں تو وہ مسلمان ہونے کے ناتے کیا متحد ہوں گی۔ ان جماعتوں کو اپنی ذاتی پہچان اپنے پرچم اپنے کارکن اور اپنی سیاسی طاقت زیادہ عزیز ہے حرمت رسول نہیں اگر یہ نبی کے سچے چاہنے والے ہوتے تو مسلک کو بالائے طاق رکھ کر عیسائیوں کی طرح ایک ہو کر دکھاتے مگر پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو اس کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔

ملک میں کالا باغ ڈیم کے خلاف قوم پرست جماعتیں متحد ہو جاتی ہیں۔ اپنے مفاد کے لیے سیاسی جماعتیں جمہوریت بچانے کے نام پر پارلیمنٹ میں متحد ہو کر پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کو دکھا دیتی ہیں۔ ملک کی مذہبی جماعتیں سیاسی مفاد کے لیے ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے نام پر متحد ہو جاتی ہیں مگر انھوں نے حرمت رسول کے لیے کبھی متحد ہو کر نہیں دکھایا۔

مذہبی جماعتوں کے ساتھ بڑی سیاسی جماعتیں اور قومی رہنماؤں نے بھی ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے الگ الگ پالیسیاں بنا رکھی ہیں۔ ملک کے عوام جانتے ہیں کہ سیاسی مفاد کے لیے جنرل ضیا الحق نے قوم پرست رہنما جی ایم سید کی عیادت کی تھی۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اپنے اقتدار میں پشاور جا کر عبدالولی خان کی وفات پر اسفند یار ولی سے ملاقات اور تعزیت کی تھی مگر انھیں دو بڑے سیاسی رہنماؤں مولانا شاہ احمد نورانی اور نوابزادہ نصراللہ خان کی وفات پر آ کر تعزیت کی توفیق نہیں ہوئی تھی کیونکہ دونوں فوجی آمریت کے خلاف تھے۔

صدر آصف علی زرداری نے سابق صدر فاروق لغاری کی وفات پر ڈی جی خان جا کر تعزیت کرنا ضروری سمجھا تھا نہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ریحانہ جا کر سابق صدر ایوب خان کی وفات پر اظہار تعزیت کیا تھا جب کہ وہ سالوں ایوب کابینہ کے اہم وزیر تھے مگر بعد میں دونوں کے سیاسی مفادات مختلف ہو گئے تھے۔

حال ہی میں شکارپور میں سندھ کی سب سے بڑی فرقہ وارانہ دہشت گردی میں 61 لوگ شہید ہوئے اور اس روز وزیر اعظم نواز شریف کراچی میں تھے مگر وہ وہاں سے واپس اسلام آباد چلے گئے شکار پور جانا گوارا نہیں کیا۔ جہاں اندرون سندھ کے لوگ ان سے یہ توقع لگائے بیٹھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ جو نواز شریف وزیر اعظم کی حیثیت میں عید نوابشاہ آ کر گزار سکتے ہیں وہ اندرون سندھ کے سب سے بڑے سانحے پر شکار پور آ کر سندھیوں کے دکھ میں شریک ہوں گے۔

سابق صدر آصف علی زرداری اب سندھ کے دعویدار ہیں مگر انھیں بھی شکارپور جانا چاہیے تھا مگر وہ بھی کراچی ہی میں موجود رہے۔ سیاستدانوں کے علاوہ فوج واحد ادارہ ہے جو ہر امتیاز سے بالاتر ہو کر اپنے سابق سربراہ کی عزت و احترام کرتا ہے خواہ اس کا سابق سربراہ جنرل ایوب جیسا مشہور صدر رہا ہو یا یحییٰ خان جیسا صدر اور سقوط ڈھاکہ کا ذمے دار ہو مگر فوج نے انھیں فوجی اعزاز سے دفنایا۔ فوج کا یہ اقدام ہمارے سیاستدانوں کو یہ درس دیتا ہے کہ سیاستدان بھی اپنے سابق سربراہوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ ہمارے وزیر اعظم کو بھی اب جنرل ضیا الحق یاد نہیں ہیں جو انھیں سیاست میں لائے تھے اور جن کے مشن کی تکمیل میاں نواز شریف کا کبھی مقصد ہوا کرتا تھا۔

مقبول خبریں