پاک افغان ہدف شورش کا خاتمہ

دونوں ممالک نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا یقین بھی دلایا ہے


Editorial February 19, 2015
دونوں ممالک نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا یقین بھی دلایا ہے۔ فوٹو فائل

پاکستان اورافغانستان نے مشترکہ سرحد سے متصل علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنزجاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا یقین بھی دلایا ہے۔ اطلاع کے مطابق جنرل راحیل نے کہا ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی ان کے ہمراہ تھے، آرمی چیف نے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے علاوہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔

حقیقت میں یہی باتیں ایک ڈیڑھ عشرہ قبل کہی جاتیں تو سیاسی مبصرین کا رد عمل یہ ہوتا کہ ایسا کچھ صرف زیب داستاں کے لیے کہا جا رہا ہے ہونا کچھ بھی نہیں ہے مگر موجودہ حکومت اور عسکری قیادت کے مشترکہ موقف نے اس کہنہ طرز الزام کو بدل دیا ہے، چنانچہ اب افغانستان کی داخلی صورتحال کے حوالے سے جو عسکری و ریاستی پیراڈائم شفٹ نمایاں ہوا ہے وہ اسٹرٹیجک ڈیپتھ کی فرسودگی کا تسلسل نہیں ہے بلکہ افغانستان میں امن کی بحالی، اسے مستحکم دیکھنے اور خطے میں جارحیت اور طالبان کی شورش کے کسی طور خاتمہ کی بے پایاں خواہش اور عملی کوشش ہے جو دنیا کے سامنے ہے۔

امریکا اور نیٹو کی (ایساف ) فوجیں تو اپنے اہداف اور مفادات کی تکمیل یا ''مشن امپاسیبل'' کے ڈرامائی موڑ پر افغانستان کی داخلی سیکیورٹی کی ذمے داریوں سے الگ ہوچکی ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں اب نو مینز لینڈ کے تصور کی جگہ ایک منتخب آئینی حکومت قائم ہے، اس کے تنظیم نو کے مرحلے میں مصروف ریاستی ادارے پاکستان کی خیر خواہی کو شک یا کرزئی جیسے بے بنیاد اور لغو الزامات کے ترازو میں تولنے کے بجائے معروضی اور زمینی حقائق کے تناظر میں تعاون و اشتراک کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے ہیں ، جو در اصل بھارت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، ادھر پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور دیگر فوجی حکام سے ملاقاتوں اور پے در پے دوروں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ۔

اس کی تبدیل شدہ صورتحال میں ایک تاریخی اہمیت ہے، افغانستان پاکستان کا اہم ترین پڑوسی ہونے کے ساتھ ایک حقیقت بھی ہے جسے دہشت گردی کے عفریت ، طالبان کی شورش ، اس سے قبل روسی جارحیت اور اس سے بھی پہلے استعماری قوتوں اور حملہ آور فاتحین نے نیم جان کر کے چھوڑا ، اب افغانستان کو عالمی امداد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ خوش آیند پیش رفت ہے کہ پاک افغان تعلقات سیاسی و عسکری مفاہمت، خیرسگالی، اقتصادی ،انتظامی اور سماجی تعمیر نو کے کاموں میں ہم رکاب ہیں۔ جنرل راحیل صدر اشرف غنی سے ہنگامی طور پر ملاقات کرکے جس پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں وہ امن عالم میں پاکستان اور افغانستان کی دوستی اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت سرحدوں کے احترام اور دہشت گردوں کی امن دشمن نقل و حمل کی روک تھام ہے، پاکستان کی کوشش ہے کہ دو برادر پڑوسی ملکوں میں اعتماد ، بھائی چارہ کی فضا قائم ہو اور دونوں مل کر دہشت گردی کے مسائل کے حل کا کوئی پائیدار فارمولا دنیا کو دے سکیں۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ افغان صدر جو سابقہ افغان حکمرانوں سے قدرے مختلف اور سیاسی طور پر دور اندیش اور قیام و استحکام امن کے ایک عملی وژن کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں اور جنرل راحیل شریف سے ''گڈ ویو لنتھ'' پر ہیں ، پاکستان کے ساتھ مل کر چلے۔ پاک عسکری قیادت اور نواز شریف حکومت ایک ناقابل تسخیر سرحدی ، سیاسی اور تزویراتی بندھن اور دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیے کام کررہے ہیں۔ اطلاع کے مطابق افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو کے ساتھ ملاقات میں آرمی چیف نے باہمی تعلقات میں بہتری کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں اطراف جاری فوجی آپریشنز میں ٹھوس پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس کے علاوہ سرحدی سیکیورٹی کے انتظامات اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بھی بات چیت ہوئی۔ آرمی چیف کی کابل میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے دوران پاکستان کو انتہائی مطلوب شدت پسند کمانڈرز مولوی فضل اللہ اور عمر خالد خراسانی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ۔

تاہم ملاقاتوں کے اس پس منظر میں حکمرانوں کو دہشت گردی کے مسئلہ اور انتہا پسندوں کے حملوں کا تدارک کرنے کے فوری اقدامات سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ لاہور میں پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ کے باہر خودکش دھماکے سے پولیس سب انسپکٹر اور ٹی اے ایس آئی سمیت 5افراد کی شہادت جب کہ لیڈیز پولیس اہلکاروں اور ایک بچے سمیت 27افراد کے زخمی ہونے کی واردات الم ناک ہے۔ خودکش بمبار قلعہ گجر سنگھ پولیس لائن کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، دوسری جانب پولیس لائنز کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمے داری کالعدم حزب الاحرار نے قبول کر لی ہے۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق خودکش بمبار ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدراشرف کو ٹارگٹ کرنا چاہتا تھا ۔

ادھر ژوب کے علاقے مرغہ کبزئی سے اغوا ہونے والے 2 پولیو ورکرز اور2 لیویز اہلکاروں کو قتل کر کے نعشیں پہاڑوں میں پھینک دی گئیں ۔ ان دردناک واقعات کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی مذموم حرکتوں سے باز آنے والے نہیں ۔لہٰذا انھیں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ویسا ہی تباہ کن اور سبق آموز جواب ملنا چاہیے۔ تاخیر سم قاتل ہے۔