سندھ میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو کام کرنے سے روکا جائےصوبائی حکومت کاوفاق سے مطالبہ

مرکزی کمیشن سے تنازع نے شدت اختیار کرلی، سرکاری جامعات کے فنڈزصوبائی کمیشن کودیے جائیں، سندھ کا موقف


Safdar Rizvi February 23, 2015
قانون سازی کے باوجوداختیارات صوبائی کمیشن کونہ ملے،معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سپرد، وزیراعظم کوپیش کرنے کی یقین دہانی۔ فوٹو: فائل

سندھ کی سرکاری جامعات کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن اوروفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے مابین اختیارات کی سرد جنگ میں تیزی آگئی ہے۔

معاملے میں شدت آنے کے بعد حکومت سندھ نے وفاقی حکومت سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اسلام آباد کو صوبے میں کام سے روکنے اوراس کے اثاثہ جات اعلیٰ تعلیمی کمیشن سندھ کومنتقل کرنے کی سفارشات پیش کردی ہیں جبکہ سندھ کی سرکاری جامعات کے فنڈزایچ ای سی اسلام آباد کے بجائے حکومت سندھ کودینے کامطالبہ بھی کردیاگیاہے۔ سندھ میں قانون سازی کے باوجود وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے صوبائی کمیشن کواختیارات منتقل نہ کرنے کے بعد یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سپرد کردیاگیاہے اورمشترکہ مفادات کونسل کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کووزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے سامنے رکھنے اوراسے کونسل کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔

اس سلسلے میں صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن اوروفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے نمائندوں کی موجودگی میں مشترکہ مفادات کونسل کی قائمہ کمیٹی کااجلاس منعقدہوااجلاس میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن سندھ کے سیکریٹری منصورعباس نے چیف سیکریٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ کی جانب سے تیارکردہ سمری پیش کی اس موقع پر وفاقی کمیشن کے اختیارات کے دفاع کے لیے کمیشن کے سربراہ ڈاکٹرمختار احمد بھی موجود تھے اجلاس میں صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے وفاقی کمیشن کی جانب سے جامعات کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں اختیارات منتقل نہ کرنے پرموقف پیش کیاکہ سندھ اسمبلی ''سندھ ہائرایجوکیشن ایکٹ 2013'' منظور کرچکی ہے اوراس قانون سازی کے بعدصوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کو فعال کیا جاچکا ہے تاہم اس کے باوجوداعلیٰ تعلیم کے اختیارات کی صوبوں کومنتقلی اور''ڈیوولوشن''پرعملدرآمدممکن نہیں ہوسکا وفاقی اعلیٰ تعلیمی کمیشن اس سلسلے میں اپنے اختیارات محدود کرنے کے لیے تیارنہیں اوروہ صوبوں کی حدود میں اپناکام کررہا ہے۔

اجلاس میں صوبائی کمیشن کی جانب سی مشترکہ مفادات کونسل کوتجاویز دی گئیں کہ ایچ ای سی کے آرڈیننس2002میں تبدیلی کرکے صوبوں کواختیاردیاجائے اورایک نئی باڈی ''کمیشن فاراسٹینڈرڈزان ہائرایجوکیشن اینڈ ریسرچ، سائنٹیفک اینڈ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوشنز''کے نام سے تشکیل دی جائے دی گئی۔تجاویز میں صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن اسلام آباد کو سندھ میں کام سے روکاجائے اورسندھ میں موجوداس ادارے کے اثاثہ جات اورانتظامی ڈھانچے کو صوبائی کمیشن کومنتقل کردیا جائے۔سندھ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ریگولیشن ،منصوبہ بندی اورپالیسی کا اختیار صوبے کودے دیاجائے جبکہ نئے این ایف سی ایوارڈتک وفاقی حکومت جامعات کے تمام ترفنڈز کو صوبائی حکومت کے حوالے کرے.

واضح رہے کہ یہ معاملات سامنے آنے کے بعد مشترکہ مفادات کونسل کی قائمہ کمیٹی نے صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کویہ معاملات مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے اوروزیراعظم پاکستان کوپیش کرنے کی یقین دہانی بھی کرادی ہے۔

مقبول خبریں