سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس کا انتقال

جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کی شہرت ایک ایماندار اور اصول پسند جج کی تھی۔


Editorial February 24, 2015
رانا بھگوان داس کے انتقال پر ملک کی سیاسی ، سماجی و قانونی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، فوٹو : فائل

سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس گزشتہ روز حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ وہ خاصے عرصے سے علیل تھے۔ جسٹس (ر)رانا بھگوان داس کو سیاسی ، سماجی اور قانونی حلقوں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ، رانا بھگوان داس کے انتقال پر ملک کی سیاسی ، سماجی و قانونی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

وہ پاکستانی تاریخ کے پہلے ہندو اور دوسرے غیر مسلم تھے جو سپریم کورٹ کے جج بنے۔وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائمقام جسٹس بھی رہے۔وہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر نصیر آباد میں 20 دسمبر 1942 کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم سندھ میں ہی حاصل کی۔ انھوں نے اسلامیات میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ انھوں نے ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کیں اور 1965 میں وکالت کا آغاز کیا ۔

صرف دو برس ہی وہ سول جج بن گئے۔ 27 برس کی ملازمت کے بعد انھیں سندھ ہائی کورٹ میں جج بنایا گیا۔ 4فروری 2004 کو انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔ جسٹس (ر) رانا بھگوان داس کی شہرت ایک ایماندار اور اصول پسند جج کی تھی اور وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرتے تھے، ججز بحالی کی تحریک میں بھی وہ ثابت قدم رہے اور آمریت کا ساتھ نہیں دیا، انھیں پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک بے داغ اور ایماندار جج کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔