لاپتا ملائشین طیارے کو ہائی جیک کیا گیا ایوی ایشن کے عالمی ماہر کا دعویٰ

طیارے کے ریڈار کے تین غیر معمولی ٹرن اشارہ کرتے ہیں کہ اس کا رخ زبردستی موڑا گیا، ماہر ایوی ایشن


ویب ڈیسک February 26, 2015
11 ماہ قبل لاپتا ہونے والے ملائیشین ایئر لائن کے لاپتا طیارے میں عملے سمیت 239 مسافر سوار تھے، فوٹو:فائل

لاہور: ملایشین ایئر لائن کے طیارے کا 11 ماہ گزر جانے کے بعد بھی کچھ پتا نہیں لگایا جاسکا لیکن اب ایک عالمی ماہر ایوی ایشن ڈیزاسٹر نے اس طیارے کے ہائی جیک ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 8 مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ کی جانب پرواز کے دوران پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے ملائیشین ایئر لائن طیارے ایم ایچ 370 کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی رائے سامنے نہیں آسکی ہے تاہم اب فضائی حادثوں کی وجوہات بیان کرنے والے عالمی ماہر میکولم برینر نے اس کے ممکنہ طور پر ہائی جیک ہونے کا انکشاف کیا ہے ۔

میکولم برینر کا کہنا ہے کہ طیارے کے غائب ہونے سے قبل اس کے ریڈار کا تین غیر معمولی ٹرن لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں موجود کسی شخص نے طیارے کو زبردستی راستے سے ہٹا کر اس کا رخ انٹارکٹیکا کی جانب موڑ دیا کیونکہ طیارے نے پہلے بائیں جانب ٹرن لیا پھر دو ٹرن اور لیے اور طیارے کا رخ انٹارکٹیکا کی جانب مڑ گیا جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ طیارے کے کاک پٹ میں کوئی ایسا شخص موجود تھا جس نے اس کا رخ منزل سے ہٹا کر دوسری جانب موڑ دیا۔ میکولم کا کہنا ہے انہوں نے اپنے 40 سالہ کیرئیر میں ایوی ایشن کی تاریخ میں ایسا واقعہ نہیں دیکھا جب کہ میکولم اور ان کے ساتھیوں نے آئندہ چند ماہ کے دوران طیارے کے ملبے کا پتا چلنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کے کمشنر مارٹن ڈولن نے کا کہنا ہے کہ مئی تک طیارے کا ملبہ تلاش کرلیا جائے گا تاہم عالمی سطح پر جاری طیارے کی تلاش کا کام مئی میں ختم کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ملائیشین ایئر لائن کے لاپتا طیارے میں عملے سمیت 239 مسافر سوار تھے اور11 ماہ گزر جانے کے باوجود طیارے کے بارے میں کچھ پتا نہیں لگایا جاسکا ہے۔