جمہوریت اورہارس ٹریڈنگ

آج پاکستان جس انتظامی ابتری اور کرپشن کا شکار ہوا ہےاس میں جہاں آمرانہ حکومتوں کےکرتادھرتاؤں اوربیوروکریسی کاحصہ ہے۔


Editorial February 24, 2015
اگر سیاست میں ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن جاری رہی تو جمہوریت کبھی کامیاب نہیں ہو گی، فوٹو : فائل

جیسے جیسے سینیٹ کے الیکشن قریب آ رہے ہیں ،سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امید واروں کو کامیاب کرانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔الیکشن خواہ کسی قسم کا بھی ہو اس میں سیاسی جوڑ توڑ ہوتا رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی حیرانی کی بات نہیں۔کوئی دھڑا دوسرے کے ساتھ مل جاتا ہے اور کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد یا سمجھوتہ کر لیتی ہے ۔

ایسا سیاست میں ہوتا رہتا ہے لیکن پاکستان میں سیاسی جوڑ توڑ اور سیاسی سرگرمیوں میں کرپشن اور سودے بازی کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن ہوں یا قومی اسمبلی کے آزاد امید واروں کا معاملہ ہو ،اس میں ہارس ٹریڈنگ یا پیسے کے لین دین کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ اب بھی سینیٹ کے الیکشن سے پہلے ہارس ٹریڈنگ کی خبریں میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ عمران خان بھی اس حوالے سے باتیں کر رہے ہیں۔ دیگر ذرایع بھی ایسی خبریں دے رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا عنصر موجود ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سینیٹ الیکشن میں ارکان اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے آئینی ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس ضمن میں سیاسی حمایت حاصل کرنے اور قانونی پہلو کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آیندہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ یا پیسے کے استعمال کے خاتمے اور ایوان بالا کے انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور جمہوری اقدار کے مطابق بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے سینیٹ انتخابات کے لیے پیسے یا اثرورسوخ کے مبینہ استعمال کی خبروں پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ ہم اہم قومی اداروں کے تقدس کی بڑی قدر کرتے ہیں۔کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا اور اگر ضروری ہوا تو سینیٹ انتخابات سے قبل آئین اور قوانین میں ترامیم مکمل کی جائیں گی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس اور وزیراعظم کے حوالے سے جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں روپے پیسے کا استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ارکان پارلیمنٹ بھی سیاسی دباؤ یا پیسے کے لین دین میں ملوث ہو کر اپنے فیصلے کرتے ہیں۔پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کی نمایندگی کا دعویٰ کرنے والے اصول پسندی اور جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔

آج پاکستان جس انتظامی ابتری اور کرپشن کا شکار ہوا ہے اس میں جہاں آمرانہ حکومتوں کے کرتا دھرتاؤں اور بیوروکریسی کا حصہ ہے وہاں عوام کے ووٹ لے کر منتخب ہونے والے جمہوریت پسندبھی برابر کے شریک ہیں۔سینیٹ موجودہ سسٹم میں انتہائی باوقار ادارہ ہے ۔اگر اس ادارے کا کوئی رکن پیسے دے کر منتخب ہوا ہو گا تو وہ جمہوریت اور قوم کی کیا خدمت کرے گا۔اسی طرح جو رکن اسمبلی پیسے لے کر ووٹ دیں گے ان سے ایمانداری اور جمہوریت پسندی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ اصولی طور پر سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن لڑنا چاہیے۔

سیاسی جوڑ توڑ کرنا اور اپنے حصے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ پاکستان میں جمہوری حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں اسی وجہ سے ناکام رہی ہیں کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بنتا ہے ، اس کی ساری توجہ ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے ،نوکریوں کا کوٹہ لینے ،اپنی مراعات کو بڑھانے کے لیے کوششیں کرنے اور بیوروکریسی پر اپنا استحقاق ثابت کرنے پر مرکوزرہتی ہے۔ جمہوریت کس بلا کا نام ہے ،انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔پاکستان میں جب بھی مارشل لاء لگا یا کسی آمر نے اقتدار سنبھالا ،سیاستدان اس کی چھتری تلے جمع ہو گئے۔

جنرل ضیاء الحق نے جو غیر جماعتی الیکشن کرائے اس میں بھی سیاستدانوں نے حصہ لیا اور پھر جب جنرل پرویز مشرف نے الیکشن کرائے اس میں بھی سیاستدان الیکشن لڑنے میں پیش پیش رہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اگر اس ملک میں جمہوریت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہیں اور آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا چاہتی ہیں تو انھیں خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔

اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنا ہو گا۔ آئین اور قانون کو سب سے پہلے اپنے آپ پر نافذ کرنا ہو گا اس کے بعد عوام کی باری آتی ہے۔ اگر سیاست میں ہارس ٹریڈنگ اور کرپشن جاری رہی تو جمہوریت کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔