غیر ملکیوں کے لیے موبائل سم کا مشروط اجرا

حکومت نے سم ویری فکیشن کے لیے نادرا کے بایو میٹرک سسٹم کو متحرک کرکے ایک اہم قدم اٹھایا ہے


Editorial February 24, 2015
ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور موبائل فون کے ذمے دارانہ استعمال سے گریز خطرات کا شاخسانہ بن سکتا ہے، فوٹو : فائل

ایک حالیہ اطلاع کے مطابق حکومت نے غیر ملکیوں کے لیے موبائل فون سم کا اجرا پاسپورٹ اور ویزے سے مشروط کردیا جس کے تحت ویزا مدت ختم ہوتے ہی سم بند کردی جائے گی۔ بادی النظر میں یا اقدام ملک کو درپیش دہشت گردی کے ضمن میں کیا گیا ہے جس کے تحت دہشت گرد سائبر کمیونیکیشن سے استفادہ کرتے ہیں،ان کے ملک اور بیرون ملک پھیلے نیٹ ورک سے مربوط رابطے کی کلید سیل فونز اور ان میں استعمال کی جانے والی بیشمار سمیں ہیں ۔

حکومت نے سم ویری فکیشن کے لیے نادرا کے بایو میٹرک سسٹم کو متحرک کرکے ایک اہم قدم اٹھایا ہے جس کے تحت اب تک لاکھوں غیر تصدیق شدہ سمیں بلاک کی جاچکی ہیں اور صارفین کو انگھوٹے کی تصدیق ، دیگر معلومات کی فراہمی اور موبائل کمپنیوں کی جاری کردہ اضافی سموں کو حذف کرنے کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔ یہ ایک مسلمہ عالمی حقیقت ہے کہ دہشت گرد تنظیموں نے موبائل فون کے غلط اور بہیمانہ استعمال سے دہشت گردی کے دائرہ کو وسعت دی ہے اور گلوبل ولیج کو انتہا پسندوں کے نشانہ پر رکھا ہے۔

اس لیے دنیا بھر میں انٹیلی جنس ایجنسیاں سائبر کرائمز کے کنٹرول کے لیے عالمی اشتراک عمل چاہتی ہیں اور موجودہ حکومت بھی ان ہی کوششوں سے مربوط رہتے ہوئے اپنی داخلی سالمیت کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے جب کہ موبائل فون سموں کو ریگولرائز کرنے کو ایک قومی مشن کی صورت دی گئی ہے، تاہم اس میں موجود نقائص اور شہریوں کو درپیش مسائل کا ازالہ بے حد ضروری ہے۔

ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور موبائل فون کے ذمے دارانہ استعمال سے گریز خطرات کا شاخسانہ بن سکتا ہے ، کیونکہ تخریب کاری ، بم دھماکوں اور بمبار نیٹ ورک کوغیر انسانی طریقے سے استعمال کر کے نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا بلکہ عالمی دہشت گرد قوتوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز سے نیٹ اور موبائل فون کے ذریعے رابطہ ، اہداف کے تعین ، اور اپنے کارندوں کو ہلاکت خیز ہدایات اور ٹارگیٹڈ مقامات تک رسائی کے لیے مختلف غیر قانونی سموں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بے نام سموں کے اس مہلک اور بے دریغ استعمال کو روکنے کا میکنزم روبہ عمل لایا جارہا ہے۔

ادھر پی ٹی اے نے غیر ملکیوں اور افغان مہاجرین کے لیے موبائل سم اجرا کی قابل عمل اور بر وقت پالیسی عملدرآمد کے لیے موبائل فون کمپنیوں کو بھجوا دی جس کے مطابق غیر ملکیوں اور افغان باشندوں کو سم حاصل کرنے کے لیے کارآمد ویزا کی کاپی اور بیان حلفی جمع کرانا ہوگا اور کوئی بھی غیرملکی کسی بھی فرنچائز سے سم نہیں لے سکے گا۔

اس کے لیے انھیں مین برانچ میں جانا پڑے گا جب کہ بیان حلفی سم کے غیر قانونی استعمال نہ کرنے کے حوالے سے ہوگا اور ویزا مدت ختم ہوتے ہی سم بند کردی جائے گی۔ اس کے علاوہ افغان مہاجرین کی سمیں بھی پاکستان میں قیام کی اجازت ختم ہوتے ہی بند کردی جائیں گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان اقدامات کے جلد مفید نتائج قوم کے سامنے آجائیں گے۔