منی پاکستان میں صفائی مہم

صوبہ سندھ کو صاف ستھرا اور پرامن بنانے کی یہ مہم ایک سال تک جاری رہیگی۔


Editorial February 25, 2015
جب تک ان اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی اور ان اداروں کے پاس ترقیاتی فنڈز نہیں ہوتے ، اس وقت تک شہر قائد گندگی کا نمونہ بنا رہے گا، فوٹو : ایکسپریس

منی پاکستان کے شہر کراچی کو کسی زمانے میں ایشیا کے صاف ستھرے میٹروپولیٹن شہروں میں نمایاں مقام حاصل تھا۔اس کی شاہراہیں اور مصروف کاروباری علاقے کی سڑکیں روز دھلا کرتی تھیں، بلدیہ کے افسران صحت پبلک ٹوائیلٹس کی روز صفائی اور اسٹریٹ لائٹس کے نظام کی دیکھ بھال خود نگراں نظام کے تحت کرتے تھے ۔

اسی طرح ملک کے دیگر شہروں میں بھی میونسپل ادارے اسی طرز پر شہروں میں صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق روزمرہ مسائل اور ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہوتے اورپورے احساس فرض اور قومی جذبے سے اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے، مگر رفتہ رفتہ ہمارے شہر گندگی کے ڈھیر میں اپنے بدنیتی حسن اور روایتی زیب و زینت سے محروم ہوتے گئے، کچرے کا نیا کلچر پیدا ہوا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں، برساتی نالے کراچی اور دیگر شہروں میں موسمی بارشوں کے موقعے پر سیلابی منظر پیش کرتے ہیں ۔

گزشتہ روز سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے پاکستان چوک پر خود جھاڑو لگا کر صفائی مہم کا جو آغازکیا تو اس حوالے سے پرانا کراچی یاد آیا۔ صوبہ سندھ کو صاف ستھرا اور پرامن بنانے کی یہ مہم ایک سال تک جاری رہیگی، کراچی میں شجر کاری مہم کا آغاز بھی ہوا ہے۔

بہرحال دیکھنا یہ کہ شہری ادارے کراچی کی صفائی کے لیے کتنے متحرک ہوتے ہیں کیونکہ شہر کو صا ف ستھرا رکھنا بلدیاتی اداروں کام ہے۔ جب تک ان اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی اور ان اداروں کے پاس ترقیاتی فنڈز نہیں ہوتے ، اس وقت تک شہر قائد گندگی کا نمونہ بنا رہے گا۔