دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی

ماضی کی حکومتوں نے انتہا پسندی ولاقانونیت کے خاتمے میں کوتاہی برتی جس کے نتائج آج قوم کے سامنے ہیں


Editorial February 26, 2015
دہشتگردوں کے ٹھکانے جو ’’عقابوں کے نشیمن ‘‘ تھے بہت تیزی سے مسمار کیے گئے: فوٹو فائل

ISLAMABAD: آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ۔ ملاقات میں پیشہ ورانہ امور،آپریشن ضرب عضب اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بحالی کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین آپریشن ضرب عضب میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لانے پر اتفاق اس پیش رفت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جو پاکستان کی سالمیت، داخلی استحکام اور معاشی و جمہوری بقا کے لیے ناگزیر ہے، اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو دہشت گردی سے ریاستی مفادات کو پہنچنے والا نقصان ہمہ گیر ہے ، یہ ایک کولیٹرل ڈیمج ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔

در حقیقت ماضی کی حکومتوں نے انتہا پسندی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے عزم صمیم کے اظہار میں کوتاہی برتی جس کے سنگین اور لرزہ خیز نتائج آج قوم کے سامنے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی عارضی جنگ ، محدود مدت کا جنگی مشن یا آسان ٹارگٹ نہیں ہے، اس میں الجھنے کے بعد بڑے پیمانہ پر معاملات کو سلجھانے کی بھی ضرورت ہے ، کیونکہ مقابل جو قوتیں ہیں وہ ہتھیار و خود ساختہ نظریہ سے مسلح ہیں اور اپنے مسلکی ایجنڈے کو قوم پر مسلط کرنے کی دیوانگی کا ابھی تک شکار ہیں ۔

لہٰذا اس سوچ اور سرکشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیاسی ، عسکری اور قومی سطح پر اتحاد واتفاق ضروری ہے تاکہ ایک طرف ملک دشمنوں کو داخلی شکست ہو تو دوسری طرف قومی معاشی انجن چلتا رہے، جمہوری حکومت کی معاشی ترجیحات کے طے شدہ اہداف تک رسائی اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے ۔ یہ پلان قوم کی حقیقی امنگوں کا ترجمان ہے اور اس کو منطقی انجام تک خوش اسلوبی سے پہنچانے کے لیے مستقل مزاجی، عزم مسلسل اور دانشمندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کو 24 دسمبر2014 ء سے 21 فروری 2015ء تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس کے مطابق اس عرصے کے دوران 19 ہزار 789سرچ آپریشن ہوئے اور 19ہزار272 مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر1250آپریشن کیے گئے۔

مذہبی منافرت پھیلانے پر558افراد گرفتار کیے گئے۔ 5066 افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا۔ بلاشبہ مزید اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ صورتحال حکومت اور عسکری جانبازوں کے مکمل کنٹرول میں ہے ، دشمن شکست خوردگی کے احساس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، اس کی خاموشی نئی فتنہ سامانی کا نکتہ آغاز بھی بن سکتی ہے، اس لیے چوکنا رہنا لازم ہے۔ بات آسکر وائلڈ نے سخت کہی ہے کہ امید پرستی کی بنیاد ہی دہشت گردی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دشمن باہر کا ہو تو اس کی جارحیت کا مقابلہ ایک جنگی پلان کے ساتھ ہوتا ہے۔

تاہم ان بے چہرہ اور روپ بہروپ دہشتگردوں کے ٹھکانے جو ''عقابوں کے نشیمن '' تھے بہت تیزی سے مسمار کیے گئے ، یہ اگر سرنڈر نہیں کریں گے تو مارے جائیں گے ، اور امید پرستی سے ہٹ کر یہ جارحانہ حکمت عملی پہلی بار سیاسی و عسکری پیج پر بنی ہے۔ چنانچہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ویسے اقدامات نظر آنے چاہئیں جن کا مظاہرہ سلامتی پر مامور غیر ملکی اداروں کا طرہ امتیاز ہے۔

کسی سرکاری یا ریاستی تنصیب و مقام یا اہم شخصیات و بیگناہ شہریوں کو یلغار یا خاموشی سے نقب لگا کر ہلاک کرنے کی واردات کے راستے بند ہونے چاہئیں ۔ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردی کی روک تھام میں معاشی محرومیوں کا خاتمہ بھی پیش نظر رہے ، معاشی ثمرات آئی ڈی پیز سمیت تمام طبقات کو میسر ہوں ، ان کی بحالی جلد ہو تاکہ ملک گیر سماجی فرسٹریشن ، جنگجویانہ رجحانات ، فرقہ وارانہ و مسلکی تناؤ اور مذہبی کشیدگی کی جگہ خیر سگالی ، رواداری ، تعمیر نو اور خرد افروز ماحول کو جگہ مل سکے ، اور ساتھ ہی پاکستان کا عالمی امن پسندانہ امیج بحال ہو۔

ادھر پاکستان اور یورپی یونین نے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے عالمی سطح پر ہونیوالے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کو مذہب، قومیت، تہذیب یا کسی لسانی گروہ سے منسلک نہ کیا جائے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی و انسداد دہشتگردی ڈائیلاگ کا چوتھا دور منگل کو دفتر خارجہ میں ہوا ، جب کہ امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا عزم کر لیا ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے سامنے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا پاکستان اور افغانستان کو 3.4 ارب ڈالر دینے کا ارادہ ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔اسی طرح تمام عالمی قوتوں کو باور کرایا جائے کہ اسلام امن کا داعی ہے اور مٹھی بھر دہشت گرد پاکستانی عوام اور مسلم امہ کی ترجمانی کا کوئی حق نہیں رکھتے۔