معین خان کی معافی…

معین خان کی غیر ذمے داری نہ صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث بنی بلکہ کرکٹ ٹیم بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔


Editorial February 26, 2015
چیئرمین پی سی بی نے معین خان کو فوری طور پر وطن واپس بلا کر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے کہا ہے : فوٹو فائل

KARACHI: قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کے کرائسٹ چرچ کے جوا خانے جانے کے واقعے سے ملک بھر میں ایک نیا طوفان کھڑا ہوگیا، میڈیا نے بھی اس واقعے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ،بات اتنی بڑھی کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات و نشریات نے بھی ورلڈ کپ میں ٹیم کی مسلسل دو میچز میں شکست کا غصہ خوب نکالتے ہوئے اسے جواریوں کا ٹولہ قرار دے دیا اور جذبات میں آکر ٹیم کی واپسی پر اسے ملٹری کورٹس میں جواب طلبی کے لیے پیش کرنے کا بیان دے دیا۔

معین خان کے جوا خانے جانے کے واقعہ پر قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہونے والے پی سی بی کے ہنگامی اجلاس میں چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے چیف سلیکٹر کو فوری طور پر وطن واپس بلا کر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے کہا ہے۔معین خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ کیسینو رات کے کھانے پر گئے تھے تاہم انھوں نے ڈنر کے لیے کیسینو کے انتخاب کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام سے معافی مانگ لی ہے۔

معین خان نے جوا کھیلا یا نہیں اس کے بارے میں تو تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا لیکن ایسے ماحول میں جب ٹیم بھارت سے میچ ہار چکی تھی اور معین خان کے ویسٹ انڈیز سے میچ سے قبل کیسینو جانا اور اس کے بعد ٹیم کا دوسرا میچ بھی ہار جانے کے واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ،ناراض اور افسردہ شائقین جو پہلے ہی شدید ردعمل کا اظہار کر رہے تھے ایسے میں کیسینو جانے کے واقعے سے ان کی ناراضی میں مزید اضافہ ہوا، اس طرح عوامی سطح پر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات سے معین خان کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

ایسے وقت میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میچ کھیل رہی ہے ،کرکٹ بورڈ کے تمام عہدیداروں اور کھلاڑیوں کو انتہائی احتیاط اور بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ دانستہ یا غیر دانستہ کوئی بھی ایسی غلطی ان کی ملکی اور عالمی سطح پر بدنامی کا باعث بن سکتی ہے۔اس موقع پر پاکستانی ٹیم کو عالمی سطح پر بدنام کرنے والا مافیا بھی خاص طور پر اس تاک میں رہتا ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی اسکینڈل بنا کر پاکستانی ٹیم کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دے۔معین خان کی غیر ذمے داری نہ صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث بنی بلکہ کرکٹ ٹیم بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔

ہم ایک بار پھر یہ کہیں گے کہ قومی کھلاڑی بیرون ملک سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں انھیں کسی بھی ایسی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے قومی وقار مجروح ہو۔اب کرکٹ بورڈ کا فرض ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کرائے اور اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کرے تاکہ مستقبل میں کوئی کھلاڑی یا آفیشلز ایسی غیر ذمے داری کا مظاہرہ نہ کرے۔