سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا طریقہ کار تبدیل

بلدیاتی انتخابات کے بعد حد بندیوں کا اختیار سندھ حکومت کو ہوگا۔


Editorial February 26, 2015
سندھ اسمبلی نے بلدیاتی حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن پاکستان کو دے دیا ہے :فوٹو فائل

KARACHI: بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہر چند دن بعد نئی اطلاعات سامنے آتی ہیں، عوام منتظر ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ نئی اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی نے منگل کو سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2015 اتفاق رائے سے منظور کرکے بلدیاتی حلقہ بندیوں کا اختیار الیکشن کمیشن پاکستان کو دے دیا ہے جب کہ انتخابات کا طریقہ کار بھی تبدیل کردیا گیا ہے۔

مذکورہ ترمیم کی منظوری سے قبل سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت یونین کونسل اور یونین کمیٹیوں میں سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے لیے امیدواروں کے پینلز نامزد کرنے تھے لیکن اب ترمیم آنے کے بعد بلدیاتی اداروں کا بنیادی یونٹ وارڈ ہوگا، ہر یونین کونسل یا یونین کمیٹی میں 4 وارڈز ہوں گے اور ہر وارڈ میں سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار کھڑے کرسکیں گی، اس طرح پینل کے بجائے انفرادی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔

ترمیم کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن میں یونین کمیٹیوں میں آبادی کی حد 40 سے 50 ہزار ہوگی۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مختلف سیاسی تنظیموں کے حلقہ بندیوں سے متعلق تحفظات کو مدنظر رکھا گیا ہے جو کہ گزشتہ انتخابات میں گرم موضوع رہا۔ الیکشن کمیشن کو بلدیاتی حلقوں کی حد بندی کے اختیارات صرف اس وقت حاصل ہوں گے جب بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہوں گے، بلدیاتی انتخابات کے بعد حد بندیوں کا اختیار سندھ حکومت کو ہوگا۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ حد بندیوں سے متعلق مزید کوئی تنازعہ کھڑا نہ ہونے پائے۔

اس سلسلے میں یہ امر بھی قابل اطمینان ہے کہ ترمیمی بل کے تحت حکومت بلدیاتی حلقوں کی حد بندی اور تعداد کے تعین کے لیے متعلقہ بلدیاتی ادارے کے لوگوں کے اعتراضات کی سماعت کرے گی، حکومت لوگوں کے اعتراضات کی سماعت کے بعد کسی بھی یونین کونسل کی حدود میں توسیع یا تبدیلی کرسکتی ہے۔

امید واثق ہے اس دانشمندانہ فیصلے کے بعد حد بندیوں کا جھگڑا بھی بحسن و خوبی نمٹ جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت امید افزا ہے، عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی نظام کے منتظر ہیں اس لیے مزید کسی تردد و تبدیلی کے حتمی تواریخ کا بھی اعلان ہوجانا چاہیے۔