آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا بھارت کو انتباہ

بھارت کے خطے کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کچھ زیادہ خوشگوار اور مثالی نہیں۔


Editorial February 28, 2015
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت کو انتباہ کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھے اگر وہ اپنے جارحانہ رویے سے باز نہ آیا تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو سیالکوٹ گیریژن اور ورکنگ باؤنڈری کے اگلے مورچوں کے دورے کے موقع پر فوجی جوانوں سے خطاب میں بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اس فائرنگ کا مقصد دہشتگردوں کے خلاف آپریشن سے توجہ ہٹانا ہے' ماضی قریب میں بھارت کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مہم کے لیے تباہ کن تھیں اور اس نے علاقائی استحکام کو بری طرح متاثر کیا۔

نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی فوج کی جانب سے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہو گیا' پاکستان نے بھارتی جارحیت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کیا۔ مگر مودی حکومت نے مثبت جواب دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف آتش فشاں بیان بازی شروع کر دی۔ پاکستانی فورسز نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔

بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے پاکستانی سرحدی دیہات میں رہنے والے شہریوں کو مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔سرحدی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی بار فلیگ میٹنگ ہوئیں مگر بھارت نے امن کا راستہ اپنانے کے بجائے جارحیت کا وتیرہ ہی اپنائے رکھا۔

اگست 2014 میں سرحدی علاقوں پر بھارتی جارحیت روکنے کے لیے پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی مگر اس میٹنگ کے چند گھنٹوں بعد ہی بھارت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بجوات سیکٹر پر فائرنگ اور گولہ باری شروع کر دی۔ دسمبر 2014 میں بھارتی فوج نے دھوکا دہی سے شکر گڑھ سیکٹر میں فلیگ میٹنگ کے بہانے بلا کر فائرنگ کرکے دو پاکستانی رینجرز اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ جس پر پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔

بھارت نے سرحدوں پر جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے وعدے کی کبھی پاسداری نہیں کی، اس نے تین برسوں میں تقریباً 95 مرتبہ پاکستانی علاقوں پر فائرنگ کرتے ہوئے سیز فائر کی خلاف ورزی کی' اس عرصے کے دوران پاکستان رینجرز کے تین اور بارہ عام شہری شہید ہوئے۔ بھارتی فوج کی منہ زوری اس قدر بڑھی کہ وہ مذہبی تہواروں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ پر بھی بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کرتی رہی جس سے شہریوں کی ایک تعداد نشانہ بنی۔ پاکستانی حکومت نے بھارت سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بھارتی حکومت اپنے جارحانہ رویے کو ترک کرنے کے لیے آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

بھارت کے خطے کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کچھ زیادہ خوشگوار اور مثالی نہیں۔ چین کے ساتھ بھی اس کے شدید تنازعات موجود ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق چین نے بیجنگ میں تعینات بھارتی سفیر کو طلب کر کے نریندر مودی کے دورہ ارونچل پردیش پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے اس دورے سے چین کی علاقائی خود مختاری کے حق اور اس کے مفادات کو زک پہنچی۔

مودی حکومت کے اب تک کیے جانے والے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تنازعات مذاکرات اور خوش اسلوبی سے طے کرنے کے بجائے اسے کسی نہ کسی انداز میں ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پہلے اس نے پاکستان کے ساتھ جارحانہ رویہ اپنایا اب اس نے چین کے ساتھ بھی تعلقات بگاڑنے کی ایک اور کوشش کی ہے۔

گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوباما کے دورہ بھارت کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے طے پائے' مبصرین کے مطابق ان دفاعی معاہدوں کا مقصد بھارت کو خطے کی ایک طاقتور قوت کے طور پر ابھارنا ہے تاکہ مستقبل میں چین کا راستہ روکا جا سکے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی مگر بھارت نے اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ بھارت بلوچستان میں بھی ہونے والی گڑ بڑ کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں کئی بار احتجاج کیا اور امریکی حکومت کو بھارتی مداخلت کے ثبوت تک فراہم کیے مگر ابھی تک اس سلسلے میں نہ امریکا نے کوئی کردار ادا کیا اور نہ بھارتی حکومت اپنے مذموم ارادوں سے باز آئی ہے۔

یہ خبریں منظر عام پر آ چکی ہیں کہ شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کو افغانستان کے راستے سپورٹ فراہم کرنے میں بھارتی حکومت بھی برابر کی شریک ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو بھارتی حکومت نے اس آپریشن سے توجہ ہٹانے کے لیے مشرقی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔بلاشبہ ان اشتعال انگیز کارروائیوں سے خطے کا امن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت کو انتباہ کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھے اگر وہ اپنے جارحانہ رویے سے باز نہ آیا تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کو بھارتی حکومت کو اس کے جارحانہ عزائم سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے کا امن کسی طور متاثر نہ ہو۔