حامد بھائی کے بغیر گزرا سال

شہر کی شاہراہوں پر چیکنگ کرتی رینجرز اور پولیس پارٹیاں بھی جگہ جگہ نظر آتی ہیں


Muhammad Saeed Arain March 01, 2015

PESHAWAR: ایک ہفتے میں جس شخص کے ایصال ثواب کے لیے چار ہزار کلام پاک پڑھے گئے ہوں اس کی پہلی برسی پر تقریباً ایک ہزار بچوں سمیت ناظم آباد کے لاتعداد لوگوں نے دعائے مغفرت کی، اس حامد بھائی کی شہادت کا ایک سال تو ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے بغیر گزر گیا مگر حامد بھائی کی شہادت سے جو خاندان متاثر ہوئے ان کے نقصان کا خلا پورا نہیں ہوا اور وہ آج بھی حامد بھائی کو یاد کرکے غم میں اس لیے بھی ڈوبے ہوئے ہیں کہ انھیں حامد بھائی جیسا کوئی اور مخیر نہیں ملا۔

حامد علی خان جنھیں لوگ پیار سے بھائی یا حامد بھائی کہتے تھے انھیں گزشتہ سال 28 فروری جمعہ کے مبارک دن ان کے ایک دوست سمیت جمعہ کی نماز گول مسجد ناظم آباد جیسے گنجان علاقے میں ادا کرکے باہر آتے ہی تاک میں بیٹھے نامعلوم قاتلوں نے نہ جانے کیوں شہید کردیا تھا۔

یہ حامد بھائی اسی مسجد کے مستقل نمازی اور علاقے میں اچھی شہرت کے حامل ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک مقبول سماجی شخصیت تھے جنھیں ان لوگوں سے جدا کردیا گیا تھا جن کی حامد بھائی برسوں سے مدد کرتے آرہے تھے اور قاتلوں کو یہ علم بھی نہیں ہوگا کہ انھوں نے نماز جمعہ کے بعد جس شخص کو نشانہ بنایا ہے وہ سیاسی سے زیادہ علاقہ کی ایک ایسی اہم سماجی شخصیت تھے جن کی وجہ سے نہ جانے کتنے گھروں کا چولہا جلتا تھا۔ نہ جانے کتنے مریضوں کی دوائیں حامد بھائی کے ذریعے میسر آجاتی تھیں۔

حامد بھائی نے بے شمار لوگوں کو اپنے تعلقات کے ذریعے ملازمتیں دلائیں اور غریبوں کے ہاتھ پھیلائے بغیر ہی ان کی مالی مدد کرنیوالے تو دنیا میں نہیں رہے مگر ان کی شہادت سے جو لوگ متاثر ہوئے تھے انھیں بعد میں حامد بھائی جیسا مخیر نہیں ملا جو انھیں کپڑے اور راشن کئی سال سے باقاعدگی سے بغیر مانگے مہیا کردیتا تھا۔ ناظم آباد کے لوگ اس حامد بھائی کو نہیں بھولے جو رمضان المبارک میں انھیں گراں فروش پھل فروشوں سے بچانے کے لیے فروٹ منڈی سے پھل منگوا کر بازار سے آدھی قیمت پر فروخت کراتا رہا اور نقصان خود برداشت کرتا تھا۔

حامد بھائی کا ایم کیو ایم سے تو سیاسی تعلق تھا مگر وہ سماجی کاموں کے لیے مشہور تھے۔ لوگ ان کے پاس سرکاری دفتروں میں پھنسے اپنے کاموں کے لیے بھی آتے اور حامد بھائی ان کے مسائل اور نہ ہونیوالے کام اپنے تعلقات اور اثرورسوخ سے حل کرادیتے تھے۔

اب لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں کیونکہ حامد بھائی کے بغیر گزرے ایک سال میں حامد بھائی کا متبادل نہیں ملا اور اسی وجہ سے لوگ آج بھی حامد بھائی کو یاد کرکے اپنی ضروریات کے حصول اور کاموں کے لیے دربدر ہیں۔ حامد بھائی جیسا غریبوں کے لیے ہمدردی رکھنے والا ہر کوئی تو نہیں ہوتا اور نہ اپنے وسائل غریبوں پر خرچ کرتا ہے اور اگر کوئی ہو تو وہ مر کر بھی نہیں مرتا بلکہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔

حامد بھائی کیوں قتل ہوئے اس کا جواب تو کسی کے کیا، ارباب اقتدار کے بھی پاس نہیں۔ حامد بھائی تو کیا کراچی میں ناحق قتل کیے جانے والے ہزاروں افراد کے ورثا کے لبوں پر بھی یہی سوال ہے کہ ہمارے پیارے کیوں قتل کیے گئے اور ان کے قاتل کہاں گئے۔ حکومت مرنیوالوں کو تو بھول چکی ہے اور مرنیوالوں کے لواحقین اپنے پیاروں کے قتل پر صبر کرکے بیٹھ گئے ہیں مگر بے گناہوں کے قتل کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوا کم ضرور ہوا اور اب بھی جاری ہے۔

ان قتل ہونے والوں میں ڈاکٹر، تاجر، پولیس اہلکار، مذہبی لوگ، عام راہگیر اور وہ عام شہری بھی شامل ہیں جو اپنی ملازمتوں، مزدوری اور حصول روزگار کے لیے صبح اپنے اہل خانہ کی دعاؤں کے سائے میں نکلتے ہیں اور شام کو خیریت سے گھر آجاتے ہیں تو انھیں دیکھ کر اہل خانہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔

دیکھنے کو تو لوگوں کا رش ہوٹلوں میں، گاہکوں کا مارکیٹوں میں، اندرون شہر سفر کرنیوالوں کا رش پبلک ٹرانسپورٹ میں نظر آتا ہے مگر یہ سب لوگ خوف میں بھی مبتلا رہتے ہیں کہ نہ جانے کب کیا ہوجائے، کون اندھی گولیوں کی زد میں آجائے یا نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن جائے۔

شہر کی شاہراہوں پر چیکنگ کرتی رینجرز اور پولیس پارٹیاں بھی جگہ جگہ نظر آتی ہیں مگر پھر بھی جرائم بڑھ رہے ہیں اور بے گناہوں کا قتل جاری ہے جس کی تعداد کبھی کم کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے مگر قاتل اپنی کامیاب واردات کے بعد رات تو کیا دن دیہاڑے بھی فرار ہوجاتے ہیں اور رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کا خوف ان قاتلوں کو ہے ہی نہیں چاہے کہیں رینجرز کھڑی ہو یا چیکنگ کی آڑ میں شہریوں کو لوٹنے والی پولیس یہ قاتل اپنی گاڑیوں میں ہوں یا موٹر سائیکلوں پر نہایت اطمینان سے اپنی کمین گاہوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

خاص مواقع ہوں یا شہر میں وارداتیں بڑھ جائیں تو نشانہ نظر نہ آنیوالے قاتل نہیں بلکہ موٹر سائیکل پر سفر کرنیوالے بے گناہ شہری بنتے ہیں جو ہمیشہ پولیس اور انتظامی نااہلیت کی سزا پاتے ہیں اور ڈبل سواری پر پابندی کے باعث پولیس کی کمائی بڑھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ نہ جانے کس عقل کل نے حکومت کو ڈبل سواری پر پابندی کا مشورہ دے رکھا ہے مگر بے گناہوں کے قتل کا اس پابندی سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ دہشت گردی، سیاسی اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں پر ملک بھر میں حکومتوں کی طرف سے امدادی رقوم کا اعلان کیا جاتا ہے جو دیر سویر مل بھی جاتی ہیں مگر عام لوگوں کی ہلاکتوں پر نہ سرکاری رقم کا اعلان ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے قاتل پکڑے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال متعدد اہم شخصیات کو سر عام قتل کیا گیا جن میں انکم ٹیکس کمشنر(ر) ممتاز علی شیخ، سماجی رہنماؤں حامد علی خان، جعفر شاہ، محترمہ پروین و دیگر کی ہلاکتیں ہوئیں۔

محترمہ پروین کے قتل کے شبے میں بعض ملزم پکڑے گئے نہ جانے وہ حقیقی ملزم تھے یا سابق گورنر حکیم محمد سعید قتل کیس جیسے ملزم تھے جنھیں پولیس نے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرواکر ترقیاں اور انعامات لے لیے تھے مگر کسی کو عدالت سے سزا نہیں ہوئی اور نہ جعلی ملزم پکڑنیوالوں کے خلاف کارروائی اور ترقیاں ختم ہوئیں حکومتوں کو ہلاکتوں پر مجبوری درپیش یا سیاسی مفاد نظر آتا ہو وہاں مقتولین کے لیے بطور معاوضہ رقم کا اعلان کیا جاتا ہے ہر مرنے والا حکیم محمد سعید، حامد علی خان اور ممتاز علی شیخ نہیں ہوگا مگر دیگر ہر مرنیوالے کو غریب ہونے کے باوجود حکومت سرکاری امداد نہیں دیتی اور ایسے ضرورت مند مقتولین کے لواحقین جس طرح زندگی گزارتے ہیں وہ وہی جان سکتا ہے جس پر گزری ہو۔

حامد علی خان وہ اہم شخصیت تھے جن کے جنازے میں ہر جماعت کے رہنماؤں نے بلاامتیاز بڑی تعداد میں شرکت کی تھی اور مرحوم کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت ان کی مقبولیت کا ثبوت تھی اور ناظم آباد گول مارکیٹ سوگ میں تین روز بند رہی تھی۔

حامد بھائی کے چار بھائی امریکا میں ہیں وہ بھی عارضی طور امریکا ضرور جاتے تھے مگر اپنے وطن کو مستقل چھوڑنے پر تیار نہیں تھے کیونکہ یہاں وہ سیکڑوں افراد کی ضرورت تھے۔ حامد بھائی کے تو خواب میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے ہی محلے میں سرعام شہید کردیے جائیں گے اور ان کی شہادت سے جو خلا پیدا ہوگا اس کا اثر ان کی مد سے چلنے والے مستحقین پر پڑے گا۔

مقبول خبریں