بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافہ

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کے دفاعی بجٹ میں یک لخت اتنا بڑا اضافہ چین اور پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے.


Editorial March 01, 2015
غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے بھارتی حکومت خطے کے مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ فوٹو : فائل

بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کا خطے میں بڑی قوت بننے کے لیے جنگی جنون کا اظہار اس کے پہلے بجٹ ہی میں کھل کر سامنے آ گیا ہے اور اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں چار ارب ڈالر کی خطیر رقم کا اضافہ کر دیا ہے اس طرح اس کا دفاعی بجٹ 41 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جو اس کے مجموعی اخراجات کے 14 فیصد کے برابر ہے۔ پارلیمنٹ میں 280 ارب ڈالر حجم کا مودی حکومت کا پہلا مکمل بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دفاعی بجٹ میں 11 فیصد سے زائد اضافے کا اعلان کیا۔

مودی سرکار کے آنے کے بعد بھارت کے اندر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبروں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب بھارتی حکومت کے اپنے دفاعی بجٹ میں چار ارب ڈالر کا اضافہ اس کے کن مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے۔ آخر اتنا خطیر اضافہ کیوں کیا گیا ہے جب کہ بھارت کوئی ترقی یافتہ ملک نہیں جہاں ہر طرف خوشحالی پھیلی ہو، دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہوں' حال یہ ہے کہ دارالحکومت دہلی میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اپنا گھر نہ ہونے کے باعث ممبئی کے فٹ پاتھوں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوئی ہے۔ اپنے ان پسے ہوئے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے بجائے اس نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر دیا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کے دفاعی بجٹ میں یک لخت اتنا بڑا اضافہ چین اور پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس مقصد کے پس منظر میں امریکی عزائم کارفرما ہیں اور بھارت امریکا کے ایما پر اس خطے میں مختلف کردار ادا کرنے کی تمنا کو پروان چڑھا رہا ہے۔ بعض بھارتی تجزیہ نگاروں کے مطابق چین بھارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے اور وہ اسے چاروں اطراف سے گھیرنے کی نیت سے نیپال' میانمار اور سری لنکا میں جنگی تنصیبات قائم کر رہا ہے اور اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے بنگلہ دیش کو بھی شامل کر سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارت چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس کے لیے اسے ایک طویل عرصہ درکار ہے اس کا فوری ہدف پاکستان ہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ مغربی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بھارتی فورسز نے ہفتے کو بھی سیالکوٹ کے سرحدی علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی ۔امریکا کو مستقبل میں اپنی بالادستی کے لیے سب سے زیادہ خطرہ چین سے محسوس ہو رہا ہے اور وہ ہر صورت اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ بھارت کو مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس تناظر میں حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے میں امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

امریکا جانتا ہے کہ براہ راست چین سے جنگ لڑنا اسے بہت مہنگا پڑے گا اور اس کی معیشت پر اتنا دباؤ پڑے گا کہ وہ عالمی سطح پر اپنی بالادستی کھو سکتا ہے، اسے بھارت کی انتہا پسند حکومت کے جنونی عزائم کا بھی بخوبی ادراک ہے لہٰذا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اس نے بھارت کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہتر ہوتا کہ بھارتی حکومت اتنی بڑی رقم اپنے جنگی جنون کی نذر کرنے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی، اس کا بجٹ خسارے کا شکار ہے اور اس کی ساری توجہ ہتھیاروں کے ڈھیر لگانے پر ہے۔

بھارتی حکومت کو یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ صرف ہتھیاروں کے انبار لگا لینے سے کوئی ملک بڑی قوت نہیں بن جاتا' اس کے لیے لازم ہے کہ وہ معاشی اور اقتصادی میدان میں بھی بھرپور ترقی کرے' اس کے عوام کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ روس کی مثال سب کے سامنے ہے کہ افغانستان کی جنگ نے اس کی معیشت پر اتنے گہرے اثرات مرتب کیے کہ اسے اپنا ملک سنبھالنا مشکل ہو گیا اور مختلف ریاستوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر کے اس کی قوت کو کمزور کر دیا۔ امریکا کو بھی افغان جنگ کے دوران بہت زیادہ معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا لہذا اس نے عیاری سے کام لیتے ہوئے دیگر طاقتور اور خوشحال یورپی قوتوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اس طرح جنگ کے اخراجات مختلف طاقتوں کے درمیان تقسیم ہوگئے۔

اس وقت عالم یہ ہے کہ کروڑوں بھارتی نہ صرف تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں بلکہ انھیں دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر میسر نہیں ہوتی۔ جس طرح بھارتی جنگی جنون بڑھ رہا ہے اور وہ کہیں بھی رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا، اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ آیندہ سال بجٹ میں وہ اپنے دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ کرے گا اس طرح خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے کا احتمال اپنی جگہ موجود رہے گا، اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو بھی مجبوراً اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پڑیں گے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ دونوں ممالک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاعی اخراجات کی نذر ہوتا چلا جائے گا اور عوام حسب روایت غربت اور مسائل کی چکی میں پستے رہیں گے اور اس خطے سے غربت کا خاتمہ ایک خواب ہی رہے گا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کا بڑا انحصار اسلحہ ساز فیکٹریوں پر ہے اس لیے اپنی معیشت کو ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ اسلحہ کی فروخت اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔ غیر ملکی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے بھارتی حکومت خطے کے مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ جنگی جنون کا مظاہرہ کرنے سے مسائل میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں۔