پاک بھارت مذاکرات اور توقعات

بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور پھر کسی نہ کسی وجہ سے یہ تعطل کا شکار ہوتے رہے۔


Editorial March 02, 2015
جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کا رشتہ مضبوط ہو۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اتوار کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات جہاں سے معطل ہوئے تھے وہاں سے شروع ہوں گے۔

مسئلہ کشمیر پر بات کیے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، سیکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کا عمل شروع ہو گا تو کسی موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے، پاکستان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

بھارت نے خود ہی سیکریٹری خارجہ مذاکرات معطل کیے اور اب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو فون کر کے باقاعدہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں مذاکرات ہوتے رہے ہیں اور پھر کسی نہ کسی وجہ سے یہ تعطل کا شکار ہوتے رہے۔ اب بھی سیکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی بھارت کی وجہ سے یہ معطل ہوئے تھے، پہلے بھارت ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر مذاکرات سے انکاری رہا تو اب گزشتہ برس اگست 2014 میں دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کی کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کو بہانہ بنا کر مذاکرات سے انکار کر دیا۔

اس دوران پاکستان نے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن شروع کیا تو بھارت نے سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے کی کوشش کی مگر مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں ان کی پارٹی بی جے پی مطلوبہ نشستیں حاصل نہ کرسکی۔ یوں بھارتی حکومت اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے یہ ادراک ہونے لگا کہ وہ اپنے سازشانہ ہتھکنڈوں سے مقبوضہ کشمیر کو اپنا مستقل حصہ نہیں بنا سکتی۔

کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا کر کے اس نے پاکستان کو دباؤ میں لانے اور اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کی کوشش کی مگر پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا اور بھارت پر واضح کر دیا کہ اس کی جارحیت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بالآخر کئی مہینوں کی جارحانہ بیان بازی کے بعد بھارتی حکومت نے اپنے سیکریٹری خارجہ کو مذاکرات کی غرض سے پاکستان بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان ان مذاکرات میں حالیہ کئی ماہ سے فائرنگ کا نشانہ بنی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر 2003ء کی پاک بھارت جنگ بندی معاہدے کو بحال کرنے کا مسئلہ اٹھا رہا ہے، جب تک بھارت کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ بند نہیں ہوتا دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات خوشگوار صورت اختیار نہیں کر سکتے، دو طرفہ اعتماد سازی کے فروغ کے لیے لازم ہے کہ بھارت فوری طور پر سرحدوں پر امن بحال کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان خارجہ سیکریٹری کی سطح پر مذاکرات کے عمل کا شروع ہونا خوش آیند امر ہے لیکن ان مذاکرات میں فوری طور پر بڑے اور خوشگوار نتائج کی پیش گوئی کرنا فی الحال ممکن نہیں۔

آج اگر سیکریٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات کی بات چلی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے تو امید ہے کہ مذاکرات کا شروع ہونے والا یہ سلسلہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان مذاکرات کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ دوسری جانب خطے کی بڑی قوت بننے کے لیے بھارت کا جنگی جنون بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے اور اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں 4 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا اضافہ کر دیا ہے۔

اس اضافے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں تاہم فوج کی ضروریات پوری کریں گے، حکومت نے مشکلات کے باوجود دفاعی ضروریات کو پورا کیا ہے، روایتی ہتھیاروں کا توازن رکھنا ضروری ہے۔ اگر خطے میں اسلحہ کی دوڑ شروع ہوتی ہے تو اس کے پاکستان کی معیشت پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہوں گے جو پہلے ہی خسارے کا شکار چلی آ رہی ہے۔ دونوں ممالک غربت اور جہالت کے عفریت کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایسی صورت میں اسلحہ کے انبار لگانے پر اربوں ڈالر خرچ کرنے سے خطے کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ علاوہ ازیں پاکستان کو اپنی شمالی سرحد پر بھی شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس علاقے میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان میں موجود انتہا پسندوں سے جا ملتے ہیں۔

لہذا اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے پاکستان افغان حکومت سے کئی بار مذاکرات کر چکا ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے جس میں طے پایا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سیکیورٹی اور قومی مفادات کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ افغانستان کی موجودہ حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاتا خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ ماضی کے علی الرغم موجودہ افغان حکومت پاکستان سے مخاصمانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ وہ کئی بار پاکستانی حکومت کو یہ یقین دہانی کرا چکی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ پاکستان تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے وہ نہ صرف داخلی سطح پر دہشت گردی جیسے عفریت سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگ لڑ رہا ہے بلکہ خارجی محاذ پر بھی موجود مسائل کے خلاف وہ بھرپور انداز میں سرگرم ہے۔ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کا رشتہ مضبوط ہو۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد صورت حال میں خاصی بہتری آئی ہے۔

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی پالیسیوں میں خاصی تبدیلی نظر آ رہی ہے اور اس کے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر خوش گوار اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکریٹری مذاکرات کی بحالی بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی حالات کی نزاکت کو سمجھ رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں جو حکومتی سیٹ اپ قائم ہوا ہے اور وہاں کے نئے وزیراعلیٰ مفتی سعید نے کہا ہے کہ کشمیر میں انتخابی عمل پاکستان اور کشمیریوں کی مسلح و غیر مسلح قیادت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ بہر حال حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان کی قیادت ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے مسائل بڑھ تو سکتے ہیں ان میں کمی نہیں ہو سکتی۔