پاک افغان معاملات میں پاکستان کی کلیدی پوزیشن

وزیراعظم نےکہاکہ پاکستان افغان عوام کو اس چیلنج اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔


Editorial March 04, 2015
سول اور ملٹری قیادت کے باہمی تعاون سے پاکستان نے بہر حال امریکا پر یہ تو واضح کر دیا کہ یہاں پالیسی اور سمت ایک ہی ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل کی گھڑی میں افغان بھائیوں کے ساتھ ہے۔ افغانستان میں برفانی تودے گرنے سے ہونے والی تباہی کے متاثرہ افراد کی ہرممکن مدد کی جائے گی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے کابل کے دورے اہم معاملات سلجھانے کے لیے بڑے معاون ثابت ہوئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس میں افغان سفیر جانان موسیٰ زئی کے ساتھ ملاقات میں انھوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان میں امن مذاکرات کا عمل کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ وزیراعظم نے محض امید پرستانہ یا رجائیت پسندی کے جذبات کے حوالے سے بات نہیں کی بلکہ زمینی حقائق بدل رہے ہیں اور تزویراتی حرکیات نے پاکستان کو پاک افغان معاملات میں کلیدی پوزیشن دلادی ہے مگر پاکستان امریکا سمیت خطے کی طاقتوں کو باور کرانے میں کامیاب رہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال میں اس کی کوشش ایک امن پسند ملک کی ہے اور وہ افغانستان کو مستحکم دیکھنے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان افغان عوام کو اس چیلنج اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال نئی حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاک افغانستان مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس آیندہ چند ہفتوں میں ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جا سکے۔

افغان سفیر نے افغانستان میں حالیہ تودے گرنے سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر پاکستان کی بھرپور مدد کی فراہمی اور اظہار یکجہتی کے پیغام پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہاکہ افغانستان تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پرامن بقائے باہمی کے وژن کی تعریف کرتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے افغانستان کے دورے کرنے سے اہم دوطرفہ معاملات سلجھانے میں مدد ملی جب کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے۔

ادھر مبصرین نے سوال کیا ہے کہ افغانستان میں جو نئی بساط ہوگی، پاکستان اپنے عظیم دوست چین کے ساتھ ملکر امریکی تعاون سے کیا وہاں دیرپا امن قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ تاہم سول اور ملٹری قیادت کے باہمی تعاون سے پاکستان نے بہر حال امریکا پر یہ تو واضح کر دیا کہ یہاں پالیسی اور سمت ایک ہی ہے، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حالیہ دورہ امریکا و برطانیہ اور اس کے ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا دورہ امریکا یہ بات واضح کر رہا ہے کہ پاکستان متعلقہ حلقوں میں اہمیت بھی رکھتا ہے اور اس کے مثبت نتابج بھی سامنے اس ماہ کے آخر تک متوقع ہیں۔