جامع مذاکرات کی طرف پیش قدمی ناگزیر

پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے جب کہ امن علاقائی ضرورت ہے اور سب کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے۔


Editorial March 05, 2015
جب تک دوطرفہ بنیادوں پر تحفظات اور خدشات سے بلند ہوکر گفتگو نہیں ہوگی کسی بریک تھرو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا فوٹو: فائل

پاکستان اور بھارت نے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل اور تنازعات حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھارت سے بلوچستان اور فاٹا میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا جب کہ بھارت کی جانب سے بھی مبینہ سرحد پار دراندازی اور ممبئی حملہ کیس میں ملوث افراد کے خلاف مبینہ طور پر سست روی کا شکار قانونی کارروائی کے معاملات اٹھائے گئے۔

دونوں ممالک نے باضابطہ مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا تاہم اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم ورک طے نہیں کیا جا سکا۔ مبصرین کے خیال میں سارک ممالک یاترا کے تحت بھارتی سیکریٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے اس دورہ کا بنیادی مقصد وہی ہے جسے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے '' آئس بریکنگ ڈیولپمنٹ'' قراردیا ہے، بادی النظر میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ اور ان کے بھارتی ہم منصب کے مابین ملاقات بلاشبہ خوش آیند ہے اور اس تعطل کا ازالہ بھی جو اگست 2014ء کو بھارتی یک طرفہ فیصلہ کے باعث پیدا ہوا ۔

اخباری اطلاعات کے مطابق دفترخارجہ میں خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری اور بھارتی سیکریٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے درمیان مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اہم مسائل اور تنازعات کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور سارک سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں اعزاز چوہدری نے بتایا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ سے2003 ء کے سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد پر گفتگو کے علاوہ عوامی سطح پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام تنازعات پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان نے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے علاوہ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس اور سرحدی کشیدگی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل بھارتی فائرنگ پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات میں انھیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خط پہنچایا۔

پاک بھارت باضابطہ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے سوالات پر سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ بات چیت مثبت ماحول میں ہوئی۔ یہ مروجہ سفارتی انداز گفتگو ہے اس لیے جب تک دوطرفہ بنیادوں پر تحفظات اور خدشات سے بلند ہوکر گفتگو نہیں ہوگی کسی بریک تھرو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب خطے کی تاریخ کے تیور کچھ اور ہیں ۔ بھارت کھلے دل و دماغ اور خطے کے حقائق کو غیر دھمکی آمیز طریقہ سے پیش نظر رکھتے ہوئے نتیجہ خیز مذاکرات کی سمت قدم بڑھائے ، دوسری صورت میں بات چیت لا حاصل رہے گی، بھارت کنٹرول لائن پر کشیدگی اورفاٹا و بلوچستان میں دخل اندازی بند کرے، مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدگی دکھائے، تاکہ اسی طرز فکر کے نتیجہ میں جامع مذاکرات جلد بحال ہونے کا امکان روشن ہو ۔ یہ حقیقت ہے دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے خطے کا مسئلہ ہے ، اور دونوں ملکوں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سب سے پہلے بھارتی دفاعی و داخلہ حکام اپنے دھمکی آمیز بیانات کا سلسلہ ترک کریں اور پاکستان کے حوالے سے اپنی بلاجواز حساسیت پر نظر ثانی کریں۔

مثال کے طور پر کشمیر میں مخلوط حکومت کے قیام کے تین دن بعد ہی پی ڈی پی کے مودی حکومت کے ساتھ اختلافات شروع ہوگئے، نئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ مفتی سعید کے پاکستان کے حوالے سے بیان پر بھارتی راجیہ سبھا میں دوسرے روز بھی جس قسم کی ہنگامہ آرائی کی گئی، وہ صرف کشمیر میں پر امن انتخابات کے دوران پاکستانی امداد کا مفروضہ حوالہ تھا جب کہ چشم کشا حقیقت وہ ہے جسے بھارتی اخبار ''دی ہندو''نے اپنے اداریہ میں بیان کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ ''سیاسی ضرورت کے تحت شادی کا مطلب قلب ماہیت نہیں، جب کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی جموں و کشمیر میں اتحادی حکومت سیاسی مصلحت ہے اور مفتی سعید کا بیان تعجب خیز نہیں ہونا چاہیے، مرکزی حکومت کو اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں پاکستان کی شمولیت لازمی ہے۔

اگر پاکستان بھارت کے لیے مسئلہ کشمیرکا حصہ ہے، تو حل کی کوشش میں اسے حل کا حصہ (پارٹ آف سولیوشن) بھی ہونا چاہیے، اور اس کے لیے حریت کانفرنس اور پاکستان کو آن بورڈ لینا ہوگا۔'' بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے نئے وزیراعلیٰ کے بیان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔

وزیراعظم نواز شریف نے پاک بھارت سیکریٹری خارجہ کی سطح پر بات چیت کو خوش آیند قرار دیا ہے ،انھوں نے بجا طور پر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس میں بھارتی خارجہ سیکریٹری سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو ملکر دونوں اقوام کو قریب سے قریب تر لانے اور ایک ارب 50 کروڑ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک دوسرے کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہیے۔ پاکستان 2016ء میں آیندہ سارک سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ ہم سارک ممالک کی قیادت کا خیرمقدم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ دہشتگردی نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے۔ لہٰذا اس تاثر کو مٹانے کے لیے کہ کسی سیاسی ضرورت یا امریکی دباؤ کے تحت بات چیت پر بھارت آمادہ ہوا ہے مودی حکومت کو جامع مذاکرات کی طرف بلا تاخیر پیش قدمی کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے جب کہ امن علاقائی ضرورت ہے اور سب کا مشترکہ مفاد اسی میں ہے۔