بلدیاتی انتخابات سے مسلسل راہ فرار کیوں

جمہوریت کو جب تک گراس روٹ لیول تک مضبوط نہیں کیا جائے گااس وقت تک عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔


Editorial March 05, 2015
لیکشن کمیشن کا اولین فرض تھا کہ وہ بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے فوٹو: فائل

ISLAMABAD: جمہوری حکومتیں توقائم ہوگئیں لیکن جمہوریت کے ثمرات عوامی سطح پرابھی تک نہیں پہنچ پائے،عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں، وہ کس کے در پر جائیں ،کس سے فریاد کریں کیونکہ ممبران اسمبلی تک رسائی ممکن نہیں۔

اسٹریٹ لائٹس روشن نہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، سیوریج کا نظام تباہ ہوچکا ، پانی کی عدم فراہمی سمیت لاتعداد مسائل حل کرنے والا کوئی نمایندہ موجود نہیں ۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صورتحال کچھ ایسی ہی ہے کہ نیت نہ ہو تو حیلے اور بہانے ہزار۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی الیکشن کے عدم انعقاد پر اٹارنی جنرل کی وضاحتیں مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں17سال سے الیکشن نہیں ہوئے، عدالتی حکم پر عمل نہ ہونا کافی ثبوت ہے، وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔

سپریم کورٹ کا فل بنچ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے طویل عرصے سے نہ صرف سماعت کر رہا ہے بلکہ واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کروا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ان کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکیں۔ لیکن ماسوائے بلوچستان کی حکومت دیگر صوبائی حکومتوں نے سماعت کے دوران صرف اور صرف عذرتراشے ہیں ۔معزز عدالت کے جج صاحبان کا سرکاری اداروں کے رویے پر برہم ہونا برحق ہے ۔

دو برس بیت گئے لیکن عدالت کے کسی بھی حکم پرکوئی عملدرآمد نہ تو وفاقی حکومت نے کیا نہ ہی تین صوبائی حکومتوں نے۔الیکشن کمیشن کی جو بھی آئینی ذمے داری اس ضمن میں بنتی ہے اس میں وہ غفلت برتنے کا مرتکب ہوا ہے۔ کیونکہ اولین فرض تھا الیکشن کمیشن کا کہ وہ بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے اور عوام کا حق ان کو منتقل کر دے۔لیکن کبھی حلقہ بندیوں کا قصہ تو کبھی انتخابی فہرستوں کی رام کہانی ۔جمہوریت ،جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیاسی پارٹیاں اپنے رویوں میں آمرانہ روش رکھتی ہیں ۔فنڈزکا مکمل کنٹرول اپنے پاس رکھنے والے ممبران اسمبلی آخرعوام کا بھلا کیوں نہیں چاہتے۔

عوام کے مسائل اور دکھوں کا احساس کیوں نہیں کرتے۔خود کو عقل کل سمجھنے والے سیاستدان اختیارات کا ارتکاز اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ رویہ غیر جمہوری اور غیر منطقی ہے۔ اگر طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو پھر اس کے سوتے کیوں خشک کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب عوام کے حقوق کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے ممبران اور قائدین کو دینا چاہیے ۔

جمہوریت کو جب تک گراس روٹ لیول تک مضبوط نہیں کیا جائے گا ، اس وقت تک عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا،لہذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کرتا دھرتا افراد سپریم کورٹ اور عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے بلدیاتی الیکشن کروا دیں ،جمہوریت اور جمہور کا بھلا ہوگا۔