بلدیاتی انتخابات تاخیر کا ذمے دار الیکشن کمیشن قرار

سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حد درجہ سنجیدہ ہے اور کوئی بھی حیلہ بہانہ کارگر نہ ہو گا۔


Editorial March 07, 2015
بلدیاتی نظام عوام کا حق ہے، اب مزید تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لینے کے بجائے حتمی شیڈول اور آئین کی عملداری کو یقینی بنایا جائے۔ فوٹو : فائل

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کا گریز تو سب کے سامنے تھا لیکن جمعرات کو سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کا نظرثانی شدہ شیڈول بھی مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں تاخیر کا تمام تر ذمے دار الیکشن کمیشن کو قرار دیا ہے۔ جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے الیکشن کمیشن کو نیا شیڈول پیش کرنے کا حکم دیا، مذکورہ کارروائی میں جناب جسٹس کی جانب سے پیش کردہ کمنٹس نہ صرف چشم کشا ہیں بلکہ اس بات کا بھی عندیہ ہے کہ سپریم کورٹ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حد درجہ سنجیدہ ہے اور کوئی بھی حیلہ بہانہ کارگر نہ ہو گا۔

گزشتہ روز اٹارنی جنرل اور الیکشن کمیشن کے نمایندوں نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی الیکشن اس سال 25 اپریل جب کہ خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو ہوں گے، پنجاب اور سندھ میں 3 مراحل پر مشتمل پراسس 9 دسمبر کو مکمل ہو گا جب کہ پہلے مرحلے میں 30 ستمبر اور دوسرے میں 4نومبر کو پولنگ ہو گی۔

عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈز اور خیبر پختونخوا کا مجوزہ شیڈول منظور کر لیا اور استفسار کیا کہ پنجاب اور سندھ میں 3 مراحل کے اندر الیکشن کرانے کی وجہ کیا ہے اور ہر مرحلے میں ایک مہینے کا وقفہ کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ بات بھی قابل مذمت ہے کہ ایڈیشنل ڈی جی الیکشن کمیشن عبدالرحمان جواب نہیں دے سکے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ وہ افسر پیش ہوتے ہیں جو سوالات کے جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

انھوں نے قرار دیا کہ انتخابات کا نیا شیڈول عوام کے ساتھ مذاق ہے، لگتا ہے کہ حکومتیں انتخابات سے بھاگ رہی ہیں، الیکشن کمیشن کا نیا شیڈول ہمیں قابل قبول نہیں، انتخابات ہوں گے، ضرور ہوں گے اور ہماری دی گئی تاریخوں پر ہی ہوں گے، کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔

طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور یہ سرچشمہ خشک ہوتا جا رہا ہے لیکن ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔جناب جسٹس کے ان کمنٹس کے بعد ان قوتوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں جو درپردہ انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ بلدیاتی نظام عوام کا حق ہے، اب مزید تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لینے کے بجائے حتمی شیڈول اور آئین کی عملداری کو یقینی بنایا جائے۔