بلدیہ حیدرآباد مالی بحران کا شکار شہر کچرے کا ڈھیر بن گیا

بلوں کی عدم ادائیگی پر ٹھیکیداروں نے ڈیزل کی فراہمی بندکر دی، تعفن سے شہریوں کی زندگی اجیرن، وبائی امراض پھوٹ پڑے.


Numainda Express October 07, 2012
بلوں کی عدم ادائیگی پر ٹھیکیداروں نے ڈیزل کی فراہمی بندکر دی، تعفن سے شہریوں کی زندگی اجیرن، وبائی امراض پھوٹ پڑے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: حیدرآباد میں سٹی ٹائون اور لطیف آباد ٹائون انتظامیہ مالی بحران کے باعث کچرے کے ڈھیر اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

سٹی ٹائون میں ایم این اے صلاح الدین کی مداخلت کے بعد مقامی ٹھیکیدار 3 سو لیٹر ڈیزل ادھار پر فراہم کر رہا ہے جس سے شہر کی اہم شاہراہوں پر پھیلے کچرے کے ڈھیر کہیں سمیٹے جا رہے ہیںتو کہیں انہیں ٹھکانے لگانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے لیکن محض ایک ڈمپر اور 3 گاڑیوں سے مسلسل24 گھنٹے ایک ماہ تک کام کیا جائے پھر بھی شہر کے نصف سے زاید علاقے کو صاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 6 سو سے 7 سو ٹن نیا کچرا سڑکوں پر آتا ہے۔

ایسی صورت میں صفائی کے کام مزید تیزی کی ضرورت ہے کیونکہ سول اسپتال جانے والے ہر راستے پر کچرے کے ڈھیر ہیں، یونین کونسل نمبر 3 تلک چاڑی` نور محمد ہائی اسکول، لیاقت کالونی، اسلام آباد چوک، نورانی بستی، پھلیلی پریٹ آباد اور دیگر علاقوں میں کچرے کے ڈھیروں نے راستے بند کر دیے ہیں جبکہ علاقہ مکین تعفن اور گندی کے باعث پھوٹ پڑنے والے وبائی امراض سے پریشان ہیں، ان علاقوںکے گلی محلوں میں واقع کلینکس کے باہر رات گئے تک مریضوں کا رش رہتا ہے جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ دوسری جانب فنڈز میں کٹوتی کے باعث لطیف آباد ٹائون بھی شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے جہاں کے ٹھیکیدار نے بھی ڈیزل کی فراہمی بند کر رکھی ہے تاہم ٹرانزیکشن آفیسر محمد شبیر قائم خانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹھیکیدار کوپائی ادا کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے جس کے بعد ڈیزل کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے اور جلد صفائی کی صورتحال میں بہتری آ جائے گی۔