انتخابات کرانا اصل ذمے داری ہے

اہل اقتدار کو جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ کا ثبوت دینا ہے تو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔


Editorial March 07, 2015
بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ، قانونی اور اخلاقی ذمے داری ہے کیونکہ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی کوئی ذمے داری نہیں۔ فوٹو : فائل

فرانسیسی فلسفی اور سیاسی مدبر الیکسز ڈی تاکویل نے کہا تھا کہ '' امریکا میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا سوال ہے جو تنازع بن کر عدالتوں تک نہ پہنچ جائے۔'' ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1859ء کو دار فانی سے کوچ کرنے والے اس شخص کا کہا ہوا آج ہماری سیاست اور نظام عدل ، مقامی حکومت یا بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے سوال پر پھیلے ہوئے انتشار پر صادق آتا ہے اور اس کی آفاقی سوچ کا ایک عصری عکس ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے ارباب اختیار نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گریز پائی ، لیت و لعل ، حجت و استدلال اور حیلے بہانوں کی جو افسوس ناک تاریخ رقم کی ہے وہ سیاسی سوال یا اسمبلیوں میں گونجنے والی قراردادوں کی شکل میں سفر کرتی ہوئی عدالت عظمیٰ کے سامنے آگئی ہے جب کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن تین مرحلوں میں کرانے کا چوتھا شیڈول بھی مسترد کرتے ہوئے 10مارچ تک الیکشن کمیشن سے دونوں صوبوں کے لیے حتمی انتخابی شیڈول طلب کرلیا، الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن ایک مرحلے میں 20ستمبر کو کرانے کی یقین دہانی بھی کرا دی۔

جمعرات کو عدالت کو الیکشن کمیشن کو الیکشن میں تاخیر کا ذمے دار قرار دیا جو اس امر کا آئینہ دار ہے کہ جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر پڑنے والے انتظامی بوجھ کو کم کرنا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انصاف اور ریلیف کی فراہمی کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا اصل کام ہے۔

نا معلوم ایسی کون سی منطق یا صوبائی حکومتوں کے طرز حکمرانی میں مضمر خرابی یا ڈر ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن کرانے کو آگ سے کھیلنے کے مترادف سمجھنے لگی ہیں اور وہ مسلسل بلدیاتی الیکشن کو التوا میں ڈالتے آرہے ہیں جب کہ دنیا بھر میں لوکل گورنمنٹ یا خود اختیاری مقامی حکومتوں ، سٹی کونسلز ، کاؤنٹیز یا انتظامی یونٹوں کی تشکیل کو جمہوریت کے لیے ناگزیر اور مددگار سمجھا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ بلدیاتی ادارے ہی اصل جمہوریت ہوتے ہیں لیکن میڈیا نے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے پہلو تہی سے متعلق حکومتی امور کا جو جائزہ قوم کے سامنے پیش کیا ہے۔

اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا دکھائی دیتا ہے کہ صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی الیکشن کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے جو عدلیہ کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اور بادی النظر میں اب گیند کسی حکومت کی نہیں بلکہ عدالت نے خود اپنی کورٹ میں رکھی ہے تاکہ مقررہ میعاد سے آگے کسی فریق کو جانے کی مہلت نہ دی جائے اور طے شدہ تاریخوں اور شیڈول کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔

چنانچہ اس ضمن میں یہ خوش آئند پیش رفت ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 ستمبر کو الیکشن کرانے کی نئی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے تحریری شیڈول پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے خیبر پختونخوا میں 30مئی اور کنٹونمنٹ بورڈز میں 25 اپریل کو بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیتے ہوئے فوری قانون سازی کی ہدایت کی اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں الیکشن کے لیے دس مارچ کو ہی انتخابی شیڈول پیش کیا جائے اور انتخابات نئی انتخابی فہرستوں کے تحت کرائے جائیں۔

یہ از حد افسوس ناک حقیقت ہے کہ قانون سازی بھی نہ ہونے کے برابر رہی ، کوشش یہی ہوتی رہی کہ بات آگے بڑھتی جائے اور کسی طور 5 سال پورے کیے جائیں، جب کہ یہ انداز فکر قطعی طور پر بلدیاتی الیکشن کی روایات اور جمہوری قدروں سے میل نہیں کھاتا ، بلکہ میکاویلین انداز سیاست کی چغلی کھاتا ہے۔ ہماری جمہوری حکومتوں کا یہ طرز عمل مثبت نہیں ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کے اس موقف کو مسترد کردیا کہ انتخابات میں سیاسی جماعتیں مرکزی فریق ہیں، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل فریق سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ عوام ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں 25اپریل انتخابات کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ عدالت کے روبرو سوال جواب ہوئے، پوزیشن واضح کی جاتی رہی ، تاہم عدلیہ نے ہر پہلو کو نظر میں رکھا ہے تاکہ الیکشن سے انحراف کی کوئی گنجائش پیدا نہ ہونے پائے۔

یہی اس ساری صورتحال کا منطقی حل ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ ہم یہ الیکشن دو مئی کو کرانا چاہتے ہیں اس کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے کہا کہ تاریخ بڑھانے کی کوئی منطق بتائیں جو وہ نہ بتا سکے جس پر عدالت نے تاریخ بڑھانے کی استدعا مسترد کردی اور اپنے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات 25اپریل کو ہی کرائے جائیں۔ خیبر پختونخوا میں الیکشن سے متعلق عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ یہاں الیکشن 30مئی کو ہی کرائے جائیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر ہمارے مسائل حل کر دیے جائیں تو ہم پنجاب اور سندھ میں 20ستمبر کو انتخابات کرانے کو تیار ہیں اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آپ کا اصل مسئلہ کونسا ہے۔ بلاشبہ جتنا وقت عدالت نے پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا حکومتوں کو بار بار کی سماعتوں میں دیا ہے اس میں حلقہ بندی ، بایو میٹرک سسٹم ، مقناطیسی سیاہی ، ووٹنگ لسٹ اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی سمیت تمام مسائل حل ہوسکتے تھے ۔

مگر بات نیت کی ہے ، اہل اقتدار کو جمہوریت سے اپنی کمٹمنٹ کا ثبوت دینا ہے تو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ان کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔ عدلیہ کا قول فیصل یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ، قانونی اور اخلاقی ذمے داری ہے کیونکہ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی کوئی ذمے داری نہیں ۔