داعش کے جنگجوؤں کی تباہ کاریاں

عالمی ذرائع ابلاغ سےملنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے تاریخی شہر نمرود کو تباہ کرناشروع کر دیا ہے۔


Editorial March 07, 2015
تاریخی آثاروں کو کسی نظریے کی بناء پر مٹانا یا تباہ کرنا درست طرزعمل نہیں ہے بلکہ اسے عاقبت نااندیشی کا نام دیا جائے گا۔ فوٹو : فائل

KARACHI: عراق و شام میں داعش کے جنگجو اپنے زیرقبضہ علاقوں میں جہاں اقلیتوں اور دیگر افراد کا قتل کر رہے ہیں، وہاں وہ علاقے کے صدیوں پرانے تاریخی ورثے کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے تاریخی شہر نمرود کو تباہ کرناشروع کر دیا ہے۔

علم تاریخ کے مطابق آشوری قوم نے تقریباً 3 ہزار برس سے پہلے اس شہر کو آباد کیا تھا جس کی باقیات عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے دجلہ کے کنارے پر موجود ہیں۔ یہ عراق کا انتہائی قیمتی تاریخی ورثہ ہے اور سیاحوں کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ داعش کی اس نئی کارروائی کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ عراق کے دریاؤں دجلہ وفرات کے درمیانی علاقے کو قدیم تہذیبوں کا گہوارہ خیال کیا جاتا ہے۔

اسی علاقے میں بابلی، کلدانی، سمیری اور آشوری اقوام نے جنم لیا جنھوں نے ہزاروں سال قبل انسانی تمدن و ثقافت پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ اْسی قدیمی دور کی ایک تہذیب آشوری تھی۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے بقول اب خودساختہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے بلڈوزر انسانی تاریخ کے اس اہم خزانے کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہیں اور تاریخی آثار تباہ کرنے کا عمل شروع ہے۔ عراق سے آمدہ اطلاعات میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ داعش کا اگلا نشانہ نینوا صوبے کا قدیمی شہر الحضر ہو سکتا ہے۔

موصل میں رکھے گئے قدیم تاریخی مجسمے پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں۔ عراق کی وزارت سیاحت و آثار قدیمہ کے مطابق شہر ''نمرود'' کے تاریخی کھنڈرات کو تباہ کرنے کے لیے داعش کے جنگجو بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری استعمال کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے عراق میں تعینات اہلکاروں نے بھی نمرود شہر کی تباہی شروع کرنے پر 'اسلامک اسٹیٹ' کی مذمت کی ہے اور دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں آثارِ قدیمہ میں شمار ہونے والے تاریخی شہر نمرود کی تباہی کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔

دوسری طرف شام میں داعش کے ساتھ لڑائی جاری ہے جس میں 16 ایرانی اور افغان باشندے ہلاک ہو گئے جنھیں ایران میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹوئٹر پر دولتِ اسلامیہ کے حامی اکاؤنٹس کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ رہی ہے اور اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکا میں پلنے بڑھنے والے بعض نوجوان بھی ایک مخصوص ذہنی کیفیت میں گھر بار سے منہ موڑ کر جنگجووں کے ساتھ شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ ادھر اسلامک اسٹیٹ کے ہاتھوں دو جاپانی مغویوں کے قتل کے بعد جاپانی وزیراعظم شینزو آبے اب ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک کی پلاننگ کر رہے ہیں جس کے تحت وہ اوورسیز خفیہ ایجنسی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

نیز اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی نے فنڈز کم ہونے کے باعث ترکی میں شامی مہاجرین کے 9 کیمپوں کے لیے امدادی خوراک کا پروگرام بند کر دیا ہے جس پر ترک حکومت ان مہاجرین کے لیے متبادل ذرائے سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جہاں تک داعش کی قدیم تہذیب کی نشانیاں مٹانے کی مہم کاتعلق ہے وہ ایک ایسی ہی حرکت ہے جیسی افغانستان کی طالبان حکومت نے بامیان میں بدھا کے دیوقامت مجسموں کو دنیا بھر کی مذمتوں کے باوجود تباہ کر دیا تھا جس پر بودھ مت کے ماننے والے بالخصوص رنجیدہ ہوئے اور طالبان کی عالمی سطح پر جو تھوڑی بہت حمایت موجود تھی، وہ بھی ختم ہو گئی۔

اب داعش بھی اس راستے پر چل نکلی ہے۔ صدیوں پرانے تہذیبی آثار بنی نوع انسان کے ارتقائی عمل کی کہانی ہوتی ہے۔ ان کے ذریعے آج کا انسان ماضی کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اپنی شناخت تک پہنچتاہے۔تاریخ اگر زندہ شکل میں سامنے ہو تو حال اور مستقبل کے لیے ماضی سے جڑی حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے۔

تاریخی آثاروں کو کسی نظریے کی بناء پر مٹانا یا تباہ کرنا درست طرزعمل نہیں ہے بلکہ اسے عاقبت نااندیشی کا نام دیا جائے گا۔ داعش جو کچھ کر رہی ہے، اس سے عراق و شام اپنے تاریخی و تہذیبی ورثے سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ کسی اور کا نہیں بلکہ عراقیوں اور شامیوں کا اپنا نقصان ہے جس سے بچنے کی کوئی راہ تلاش کی جانی چاہیے۔