محکمہ تعلیم میں مردوں سے صنفی امتیاز کم نمبر کے باوجود خواتین کو ملازمت مل گئی

خواتین امیدواروں کوٹیسٹ میں20 نمبر اضافی ملنے سے ٹیسٹ پاس سیکڑوں مرد امیدوار بھرتی سے محروم ہوگئے


Staff Reporter/Safdar Rizvi March 09, 2015
کئی یونین کونسل میں ایسے امیدواروں کو بھرتی کیا گیا جن کا تعلق متعلقہ یوسی سے نہیں تھا،تعلیمی کمیٹی کے سامنے متاثرہ مرد امیدوار پھٹ پڑے۔ فوٹو: فائل

LOS ANGELES: این ٹٰی ایس( نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کے تحت اسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے معاملے میں صنفی امتیاز کی پالیسی نے سندھ میں میرٹ کے بڑے بحران کوجنم دے دیاہے جس سے محکمہ تعلیم نمٹنے سے قاصر ہے، یہ صنفی امتیاز خواتین کے بجائے مردوں سے برتا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے این ٹی ایس کے تحت اسکول اساتذہ کی بھرتیوں میں خواتین امیدواروں کو ٹیسٹ کے حاصل کردہ مارکس کے علاوہ 20 نمبر اضافی دیے جانے کی پالیسی کے سبب میرٹ پر ٹیسٹ پاس کرنے والے سیکڑوں مرد امیدوار بھرتیوں سے محروم رہ گئے ہیں، حیرت انگیزطور پر اس پالیسی کا اعلان بھی بھرتیوں کے جاری کردہ اشتہارکے بعد سامنے آیا اور اشتہار میں اس پالیسی کاذکرنھیں تھا پالیسی کے سبب خواتین امیدواروں نے اپنی مخصوص نشستوں کے علاوہ ''مخلوط نشستوں'' میں بھی اکثریتی نشستیں حاصل کرلیں اور مرد امیدوار مخلوط نشستوں پرآنے سے محروم رہے۔

بھرتیوں سے محروم ان امیدواروں کاتعلق کراچی سمیت سندھ کے دیگرمختلف اضلاع سے ہے جنھوں نے اپنے اضلاع، تعلقہ اوریوسی میں سب سے زیادہ نمبرحاصل کیے، ریفارم سپورٹ یونٹ کی ناعاقبت اندیش پالیسی کے سبب تقرریاں حاصل نہیں کرسکے، ریفارم سپورٹ یونٹ کی جانب سے بنائی گئی صنفی امتیاز پر مشتمل یہ پالیسی اب صوبائی محکمہ تعلیم کے گلے کا ہاربن گئی ہے اورمحکمہ تعلیم میرٹ پر پورااترنے والے ان امیدواروں کوچاہتے ہوئے بھی تقرریاں نہ دینے پر مجبورہے اس بات کاانکشاف صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے این ٹی ایس میں میرٹ پر پورااترنے والے امیدواروں کے بھرتی سے محروم رہ جانے کے بے تحاشاشکایات کے بعد تشکیل شدہ کمیٹی کے متاثرہ امیدواروں کے ہمراہ منعقدہ اجلاس اور سماعت کے موقع پر ہوا۔

اس موقع پرکمیٹی کی سربراہ اسپیشل سیکریٹری تعلیم عالیہ شاہد ، ریفارم سپورٹ یونٹ کی سربراہ صبا محمود ، ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم ذاکرشاہ نے سندھ کے مختلف اضلاع سے آنے والے متاثرہ امیدواروں کی روداد سنی جواحتجاجی اور دل شکستہ لہجے میں تقرری سے محروم رہ جانے کی اپنی کہانی بیان کررہے تھے، ریفارم سپورٹ یونٹ سمیت محکمہ تعلیم کے عملے کو پاس ان امیدواروں کو دلاسا دینے کے سواکوئی حل موجودنہ تھا اس موقع پر ٹنڈوالہ یارسے آنے والے امیدوارغلام مزمل شاہ، شیزان شوکت اورذوالفقارعلی نے انکشاف کیاکہ ان امیدواروں نے جے ایس ٹی ،پی ایس ٹی اورایچ ایس ٹی کے لیے منعقدہ ٹیسٹ میں بالترتیب 72، 82 اور86نمبرحاصل کیے تیسرے امیدوار ذوالفقارعلی نے ایچ ایس ٹی میں 86،جے ایس ٹی میں 79اورپی ایس ٹی میں 89مارکس لیے ان امیداروں کے اپنی تحصیل میں سب سے زیادہ مارکس تھے تاہم اس کے باوجود محض اس لیے تقرری حاصل نہیں کرسکے کہ ٹیسٹ میں ان سے کم نمبرحاصل کرنے والی خواتین امیدوار ''صنفی پالیسی'' کی بنا پر20اضافی مارکس لے کربھرتی ہوگئیں دوران سماعت اس امر کا بھی انکشاف ہواہے بعض یونین کونسل میں ایسے امیدواروں کو بھرتی کیا گیا جن کا تعلق متعلقہ یوسی سے نہیں تھا۔

ذوالفقار علی نے بتایاکہ سب سے زیادہ مارکس کے بعدبھی ان کی یوسی میں انھیں توبھرتی نھیں کیا گیا لیکن ایک دوسری یوسی سے انیزا بانو نامی خاتون امیدوارکونشست نہ ہونے کے باوجود ان کی یوسی میں بھرتی کردیا گیا اس معاملے پر ریفارم سپورٹ یونٹ کے ذمے داروں نے انھیں تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ''ایکسپریس''کے ایک سوال پر ریفارم سپورٹ یونٹ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ایک اسٹڈی کے بعدیونٹ اس نتیجے پر پہنچاتھاکہ سندھ کی بیشتریوسیز میں اسکول بند اوراوطاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جس کے سبب یوسی کی سطح پر پالیسی متعارف کروانے کی سفارش کی گئی تھی 20نمبرکی اضافی پالیسی کے حوالے سے نمائندے کا کہنا تھا کہ پالیسی کی ہرشق اشتہارمیں شامل کرنامشکل کام ہے۔

آئندہ بھرتیاں یوسی کے بجائے اسکول اسپیسیفک ہونگی، سیکریٹری تعلیم

صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے گزشتہ دورحکومت میںاسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے حوالے سے بنائی گئی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بھرتیاں یونین کونسل کے بجائے''اسکول اسپیسیفک ''ہوںگی،خواتین کواضافی 20نمبردینے کی پالیسی پربھی نظرثانی کی جائے گی،وزیرتعلیم کونقائص سے پاک پالیسی منظوری کے لیے بھجوائی جائیگی، اپنے دفترمیں ''ایکسپریس'' سے بات کرتے ہوئے صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو کا کہنا تھا کہ سابق دورمیں بنائی گئی پالیسی کے سبب امیدواروں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔

یوسیز کی سطح پر بھرتیوں کے عمل نے میرٹ کومتاثرکیا اب محکمہ تعلیم اسکول اسپیسیفک پالیسی بنارہاہے جن اسکولوں میں نشستیں خالی ہونگی ان کی اسامیاں براہ راست مشتہرہوں گی اور یوسیزکے بجائے ان براہ راست اسکولوں کی سطح پر بھرتیاں ہوں گی، اسی حوالے سے ورکنگ پیپر وزیرتعلیم کو بھیجا جائے گا، سیکریٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ این ٹی ایس کے تحت کی گئی بھرتیوں میں جوشکایات ہیں اس کے ازالے کیلیے کمیٹی کے بنائی گئی یہ کمیٹی متاثرہ امیدواروں کے تحفظات سن کراس حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

مقبول خبریں