آپریشن ہر حال میں جاری رہنا چاہیے

یہ خوش آیند امر ہے کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے


Editorial March 10, 2015
مجموعی امن کے قیام تک دہشت گردی اورا سٹریٹ کرائمز کے خلاف آپریشن عزم و شدت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں رینجرزاور پولیس نے مختلف علاقوں میں مقابلوں کے دوران کالعدم تنظیم کے 3دہشتگردوں، گینگ وار اور اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں ملوث 9 ملزمان کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا ، دوسری جانب جامشورو پولیس نے دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 3دہشتگردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کر لیا، گرفتار ملزموںکا تعلق سوات سے ہے۔

یہ خوش آیند امر ہے کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے اور قانون شکن عناصر کو محاصرے میں لینے کی حکمت عملی کامیابی سے جاری ہے، تاہم ہلاکتوں اور ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے ابھی قومی ایکشن پلان کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم کی حکمت عملی کو مزید موثر کرنے کی ضرورت ہے، بلاشبہ سیکیورٹی پر مامور حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تیزی اور تن دہی کے ساتھ مجرموں کا تعاقب اور انھیں حراست میں لے رہے ہیں جو قابل تحسین ہے جب کہ اسی رفتار سے کارروائیاں جاری رہیں تو دہشت گردی کا خاتمہ سالوں کی نہیں مہینوں کی بات ہوجائیگی۔

ادھر فرنٹیئرکورنے کوئٹہ اور اندرون صوبہ ڈیرہ بگٹی پنجگور اور آواران میں سرچ آپریشن کے دوران 8دہشتگردوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ گولہ بارود2لاکھ14ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل قبضے میں لے لیا،8کلو وزنی بم ناکارہ بناکر تخریب کاری کے منصوبے کو ناکام بنادیا، فرنٹیئرکور کے ترجمان کے مطابق ایف سی نے ڈیرہ بگٹی میں جاری سرچ آپریشن کے دوران مزید تین دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا جن کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے متھرا میں مسجد میں جاری جرگہ کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے، کرک میں ٹول پلازہ کے قریب پولیس نے کارروائی کرکے تین مبینہ دہشت گرد گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ۔ علاوہ ازیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے پندرہ روزہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی ، جس کے مطابق پندرہ دنوں میں8اغوا کار،29بھتہ خور اور 17 ٹارگٹ کلر گرفتار کیے گئے ہیں ۔ یہ اجمالی جائزہ حوصلہ افزا ہے لیکن ابھی بدامنی درد ناک ہے ۔

مثلاً اسی خبر کو لیجیے کہ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں کو ڈاکوؤں نے سر عام لوٹ لیا ، کھلاڑی کرن سعید ، ثنا سعید ، کنول ناز و دیگر گلشن اقبال مسکن چورنگی سے جارہی تھیں کہ نیپا چورنگی کے قریب ڈاکوؤں نے ان کی کار کو روکا اور اسلحے کے زور پر موبائل فون ، نقدی و دیگر قیمتی اشیا لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ اسی نوعیت کے واقعات ملک کے مختلف علاقوں میں تا حال ہو رہے ہیں، اس لیے مجموعی امن کے قیام تک دہشت گردی اورا سٹریٹ کرائمز کے خلاف آپریشن عزم و شدت کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔