دہشت گردی اور سیاسی قیادت

اب ملک میں جس قسم کی دہشت گردی ہو رہی ہے،اس پر قابو پانے کے لیے جمہوری حکومت کا کردار سب سے اہم اور سب سے زیادہ ہے۔


Editorial March 11, 2015
پاکستان میں پہلی بار دہشت گردی کے حوالے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں ۔اب اس کے عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ فوٹو : این این آئی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گزشتہ روز ملتان کے جدید انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے افتتاح کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف قومی اتفاق رائے نے ملک کے روشن مستقبل کے لیے قومی ترقی کا ایجنڈا تشکیل دینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سیاسی جماعتیں متحد ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستانی قوم کو ترقی کرنے سے نہیں روک سکتی۔

انھوں نے کہا کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کے حوالے سے سیاسی و فوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں اور اس حوالے سے قومی ایکشن پلان پر بھرپور انداز میں عملدرآمد جاری ہے۔ موجودہ سیاسی اتفاق رائے قومی ترقی کے ایجنڈا کی تشکیل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انھوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی کا قومی ایکشن پلان لائیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں معاونت کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت دہشتگردی کے خاتمے کے نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہے اور یکجہتی کا یہ سلسلہ اسی طرح قائم رہے گا توہمیں ہر مرحلے پر کامیابی ہوگی۔ ادھر پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی گزشتہ روز کور ہیڈ کوارٹر ز لاہور میں پہلی جنگ عظیم کے دوران قائم کی گئی انفنٹری ڈویژن کے سو سال مکمل ہونے پر ایک تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ یہ موقع تنازعات کے دیرپا حل کے میکانزم کی ضرورت پر زور دیتا ہے جس کی عدم موجودگی کا نتیجہ سو سال پہلے تباہ کن جنگ کی صورت میں نکلا۔

پاکستان اس وقت جس صورت حال سے دوچار ہے،اس کا تقاضا یہی ہے کہ سب سے پہلے ملک میں جاری دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور انتہا پسندی کے رجحان کے خاتمے کے لیے دیرپا اور طویل المدتی اقدامات کیے جائیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی سرگرمیاں بھی اسی صورت جاری رہ سکیں گی، جب ملک میں بدامنی اور انتشار کا خاتمہ ہو گا۔ ملتان میں جدید ایئرپورٹ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے پورے جنوبی پنجاب کے عوام و خواص کو فائدہ پہنچے گا ۔

ملتان کے لوگوں کو بیرون ملک سفر کے لیے اب لاہور یا کسی دوسرے شہر میں جانا نہیں پڑے گا بلکہ وہ ملتان سے ہی آ جا سکیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی یہ خوشخبری سنائی ہے کہ ملتان کے آم مینگو فلائٹس کے ذریعے بیرون ملک جائیں گے۔ انھوں نے جنوبی پنجاب اور ملتان کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔

یہ ساری باتیں بڑی اچھی اور خوش کن ہیں ۔جنوبی پنجاب میں مزید ترقیاتی کام ہونے چاہئیں اور سڑکوں کا پورا نیٹ ورک قائم کیا جانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی نہیں ہو گی۔ وزیراعظم کا یہ کہنا خوش آیند ہے کہ قومی ایکشن پلان پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد جاری ہے۔ اب ملک میں جس قسم کی دہشت گردی ہو رہی ہے،اس پر قابو پانے کے لیے جمہوری حکومت کا کردار سب سے اہم اور سب سے زیادہ ہے۔ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے نتیجے میں ملک کے سول اداروں کا کردار زوال پذیر ہوا ہے۔

پولیس میں موجود اطلاعات کا نظام،سب سے زیادہ خرابی کا شکار ہوا ہے۔ پولیس میں پروفیشنل ازم کے فقدان،سیاسی مداخلت،تربیت میں خامیوں کے باعث یہ ادارہ مسلسل زوال پذیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں اور دیہات میں جرائم اور غیر قانونی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ پولیس سسٹم اور پولیس افسروں اور اہلکاروں کی سوچ آج بھی روایتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے اس کی کارکردگی انتہائی پست ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوری حکومت اپنے حصے کا کردار ادا کرے اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی تنازعات کو حل کرنے پر بھی توجہ دی جائے۔ اس حوالے سے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی سوچ اور فکر میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ تنازعات کے دیرپا حل کے میکنزم کی عدم موجودگی کے باعث دونوں جنگیں عظیم ہوئیں۔ اب بھی عالمی برادری کو ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جنوبی ایشیاء میں موجود تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔

اگر جنوبی ایشیا میں موجود تنازعات ختم ہو جاتے ہیں تو اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ بہر حال سب سے اہم کام یہ ہے کہ پاکستان کی قیادت اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکسو ہو جائے گی۔ بلاشبہ اگر سیاسی قیادت متحد ہو جائے تو وطن عزیز دہشت گردی سے چھٹکارا پا سکتا ہے ۔پاکستان میں پہلی بار دہشت گردی کے حوالے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں ۔اب اس کے عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔