کراچی لاہور موٹر وے کا سنگ بنیاد

کراچی سے لاہور موٹروے کی تعمیر ایک اچھا منصوبہ ہے اور اس کا صرف کراچی یا لاہور کو نہیں بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہو گا۔


Editorial March 13, 2015
اگر پاکستان ریلوے جدیدیت کا سفر جاری رکھتا تو آج امریکا، جاپان کے برابر نہیں تو کم از کم بھارت کے برابر تو ہوتا، فوٹو : این این آئی

MILAN: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بدھ کو کراچی لاہور موٹروے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اخباری اطلاعات کے مطابق 361 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ ڈھائی سال میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں کراچی حیدرآباد سیکشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ،یہ موٹروے 6 رویہ ہوگی اور اس پر 8انٹرچینج بنائے جائیں گے۔

کراچی میں سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ کراچی لاہور موٹروے منصوبے سے ہزاروں افراد کو روز گار میسر آئے گا۔ خوشی ہے کہ آج وہ منصوبہ شروع ہو رہا ہے جو میرے دل کے قریب ہے۔ ہم عوام کے دلوں کو قریب لانا چاہتے ہیں۔ تمام صوبوں کو باہم ملانے کے لیے پورے ملک میں موٹر ویز کا جال بچھایا جائے گا۔ کراچی لاہور موٹر وے کے علاوہ خنجراب سے گوادر تک اور پشاور سے کابل تک موٹر وے تعمیر کی جائے گی۔

موٹرویز کو وسط ایشیائی ممالک سے منسلک کریں گے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ کراچی سے حیدر آباد تک ہوگا۔ دوسرا مرحلہ حیدر آباد تا سکھر، تیسرا مرحلہ سکھر سے ملتان اور آخری مرحلہ ملتان سے لاہور تک ہوگا۔ اس منصوبے کے ساتھ ہم کراچی میں ملیر ایکسپریس وے بھی تعمیر کریں گے۔ یہ 42 کلومیٹر طویل شاہراہ ہوگی۔ یہ شاہراہ پورٹ سے ایم نائن تک منسلک کی جائے گی۔

معاشیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی ملک میں ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور سماجی ارتقاء کی رفتار بڑھانے کے لیے مرکزی سڑکوں اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔

مرکزی اور رابطہ سڑکوں سے نقل و حمل آسان اور اس کی رفتار بڑھ جاتی ہے، اسی طرح افرادی قوت کی حرکت پذیر میں تیزی آتی ہے، یوں پرانا نظام پسپا ہوتا جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا اور جدید نظام راستہ بناتا جاتا ہے، یورپ اور جاپان میں ترقی کا سفر اسی انداز میں شروع ہوا۔جس کے نتیجے میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور پرانا جاگیردار طبقے کی سیاسی طاقت میں کمی ہوتی گئی۔

کراچی سے لاہور موٹروے کی تعمیر ایک اچھا منصوبہ ہے اور اس کا صرف کراچی یا لاہور کو نہیں بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہو گا، اس منصوبے پر زرکثیر صرف ہو رہا ہے لیکن جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو اس کے فوائد خاصے زیادہ ہوں گے۔ اس موٹروے کی تعمیر سے پشاور سے کراچی تک کار اور بس کا سفر خاصا آسان ہو جائے گا اور کاروباری ضروریات کے لیے ٹرالرز سے آنے والے سامان کی ترسیل بھی جلد ممکن ہو سکے گی جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس منصوبے کا ایک پہلو یوں ہے کہ یہ صرف کراچی سے لاہور تک منصوبہ نہیں بلکہ اس سے ملتان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ ملتان سے لاہور اورملتان سے کراچی پہنچنا بہت آسان ہوجائے گا۔دیگر شہر جو اس موٹروے سے ملیں گے انھیں بھی فائدہ پہنچے گا۔ یہاں یہ بات کہنا بھی ضروری ہے کہ موٹر وے بنانا ترقی کی جانب سفر ضرورہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک کے چھوٹے اور پسماندہ شہروں، قصبوں اور دیہات کے درمیان رابطہ سڑکوں کی تعمیر اوران کی حالت بہتر بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔

اس وقت حالت یہ ہے کہ ملک کے دور دراز شہروں سے منسلک قصبوں اور دیہات کے درمیان رابطہ سڑکیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں، کئی مقامات پر راستے کچے ہیں اور جہاں کہیں سڑکیں یا سولنگ موجود ہے، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارش اور سیلاب کے دنوں میں یہ علاقے ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں جس کے باعث عوام کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسے علاقوں کے باشندوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک آنے جانے کے لیے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ چاروں صوبوں کی صوبائی حکومتوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ سندھ میں دیہات سے شہروں اور قصبوں کو ملانے والی شاہراہوں اور راستوں کا برا حال ہے، حالت یہ ہے کہ داؤد کے قریب گورکھ ہل اور سانگھڑ کے قریب کاروںچر پہاڑی علاقے انتہائی پر فضا مقامات ہیں لیکن سیاحوں کا یہاں پہنچنا ممکن نہیں ہے، سڑکیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور غیر محفوظ بھی ہیں۔

یہاں ہوٹلز ہیں نہ گیسٹ ہاوس، اگر ان تک علاقہ رابطہ سڑکیں ہوں اور سندھ حکومت سیاحت کو سامنے رکھ کر کام کرے تو سندھ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عوام کو روز گار اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔

پنجاب میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں، یہاں صرف مری اور اس سے ملحقہ علاقوں پر توجہ دی جا رہی ہے حالانکہ جنوبی پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے قریب فورٹ منرو موجود ہے، اس علاقے کا موسم ٹھنڈا ہے، اگر پنجاب حکومت چاہے تو اس علاقے کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنا بھی خاصا مشکل ہے اور یہاں قیام کے لیے ہوٹل وغیرہ بھی نہیں ہے۔

اسی طرح وادی سون بھی خوبصورت اور پرفضا ہے۔ پنجاب حکومت اس علاقے کو بھی مری جیسا بنا سکتی ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں ہزارہ ہندکو بیلٹ تو سیاحوں کے لیے جنت ہے، ضلع صوابی میں گدون، دیر، کوہستان کے علاقے سیاحت کے لیے لاجواب ہیں لیکن یہاں بھی رابطہ سڑکیں ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں، فاٹا پر توجہ دی جاتی تو یہ علاقے سیاحت کا بڑا مرکز ہوتے اور یہاں خوشحالی کا دور دورہ ہوتا لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی ۔

بلوچستان کی تو بات ہی کیا ہے،یہاں کی کسی صوبائی حکومت نے عوامی فلاح کے نظریے کو سامنے نہیں رکھا جس کا نتیجہ یہ کہ صوبہ بلوچستان سب سے پسماندہ ہے۔ بہر حال صوبائی حکومتوں کو اس جانب توجہ دینی چاہیے، صرف موٹرویز کی تعمیر سے ترقی کا عمل مکمل نہیں ہوتا، اس کے لیے مواصلات کے دیگر ذرایع خصوصاً ریلوے کو بھی ترقی دینا انتہائی ضروری ہے، اگر پاکستان ریلوے جدیدیت کا سفر جاری رکھتا تو آج امریکا، جاپان کے برابر نہیں تو کم از کم بھارت کے برابر تو ہوتا، اگر ہم ریلوے کو جدید بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو ریلوے سے کراچی کا سفر بذریعہ ٹرین سات سے آٹھ گھنٹوں تک لایا جا سکتا ہے۔

مرکزی حکومت اگر کراچی سے لاہور موٹروے کے منصوبے پر 3کھرب اور61 ارب صرف کر سکتی ہے تو اتنی ہی رقم ریلوے کے لیے بھی مختص کی جائے تو اس سے اسی ادارے کی کارکردگی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ بہر حال موجودہ حکومت نے ترقی کے لیے جو سمت مقرر کی ہے، وہ خاصی بہتر ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ تعلیمی بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور اسے جلد ہی 2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا ہے، اسے بھی ہم کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے کے دائر میں رکھیں گے حالانکہ تعلیم پر اس سے کہیں زیادہ خرچ کرنا چاہیے، خاص طور پر خود کو جمہوری اور عوام کا نمایندہ کہلانے والی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی مراعات کم کر لیں اور تعلیم پر خرچ کر دیں کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں ہے۔